خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 962 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 962

خطبات ناصر جلد دوم ۹۶۲ خطبہ جمعہ ۳۱/اکتوبر ۱۹۶۹ء کا اگر نچوڑ نکالا جائے اور وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے ) یہی حال خلی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کا ہے۔قرآن کریم زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والی تعلیم ہمیں دیتا ہے لیکن اس ساری تعلیم کا خلاصہ اس کے سوا کچھ نہیں نکلتا کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ اسلام کی بھی یہی غرض ہے۔جتنے اولیاء اب تک پیدا ہوئے ہیں وہ اپنی زندگی کا ایک ہی مقصد سمجھتے تھے اور ان کی عزت واحترام کی ایک ہی وجہ تھی کہ وہ توحید باری کو قائم کر دیں اور انسان کی توجہ ہر اس ناقص اور کمزور اور خبیث چیز سے پھیر دیں جو اللہ سے دور لے جانے والی ہے۔اصل چیز توحید باری ہے لیکن تو حید کو سمجھنے تو حید کی معرفت حاصل کرنے اور توحید پر قائم ہونے کے لئے نمونوں کی ضرورت ہے اور بہترین نمونہ اور اُسوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے چونکہ ہر عقل کو سمجھانے کی ضرورت تھی اس لئے قرآن کریم نے ہر عقل کو مخاطب کیا اور ہر انسان کی سمجھ کے مطابق اسے دلائل بھی دیئے اور اس کی توجہ نشانات کی طرف بھی پھیری۔بڑے سادہ دماغ والوں اور ان پڑھوں کو بھی اللہ تعالیٰ بڑے پیار سے بہت سی سچی خوا نہیں بھی دکھا دیتا ہے تا کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ انسان کشوف کے حصول کی قوت اور طاقت نہیں رکھتا۔پس اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ ہر طور اور طریق سے اپنے بندوں کو یہ سمجھا تا ہے کہ تم صرف میری بندگی اور عبادت کے لئے پیدا کئے گئے ہو۔اِدھر اُدھر نہ دیکھنا ورنہ خسارہ اور ہلاکت کے سوا اور کچھ نہیں۔یہ پروگرام جو ہیں جہاں تک اس کی آؤٹ لائنز (Out Lines) اور اصول جو ہیں وہ تو بنے ہوئے ہیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی لیکن نئے سے نئے طریق پر، نئے سے نئے دلائل کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے نشانات کو جو نئے سے نئے آسمان سے نازل ہو رہے ہیں۔بڑوں کے سامنے بھی اور نو جوانوں کے سامنے بھی اور بچوں کے سامنے بھی مردوں کے سامنے بھی اور عورتوں کے سامنے بھی رکھ کر انہیں چاروں طرف سے گھیر کر اس مرکزی نقطہ کے سامنے لے آنا چاہیے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ اس کی طرف ہر چیز رجوع کرتی ہے۔ابتدا میں بھی وہ اسی سر چشمہ سے نکلتی ہے اور اپنی پوری وسعتوں کے بعد بھی وہ اسی