خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 942
خطبات ناصر جلد دوم ۹۴۲ خطبہ جمعہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۶۹ء کہ اللہ تعالیٰ سمیع بھی ہے اور علیم بھی ہے انہیں تو دعاؤں کی طرف کچھ خیال ہی نہیں۔بے شک اللہ تعالیٰ دعاؤں کو اگر ان میں اخلاص ہو سکتا ہے لیکن یہ دعا ئیں نہیں کرتے ان کا سارا بھروسہ ان کی اپنی کوششوں پر ہوتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں متکبرانہ کھڑا ہوتا ہے اور غرور سے کام لیتا ہے اس کی کوشش کیسے کامیاب ہو سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ علیم ہے وہ مومن کے دل کو بھی جانتا ہے اور اس کے اخلاص سے بھی واقف ہے اور وہ منافق کے دل کو بھی جانتا اور اس کے بدخیالات سے بھی واقف ہے۔اس لئے يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اس کو ہی مخصوص کرتا ہے اور اسے ہی نوازتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے اور جس کی کوشش اس کے حکم اور اس کی رضا کے مطابق ہوتی ہے اور جس کا دل کلیۂ غیر سے خالی ہوتا اور جس کا سینہ صرف اور صرف اپنے رب کی محبت سے معمور ہوتا ہے اور چونکہ اللہ تعالیٰ سمیع اور علیم ہے اس لئے کوئی مشرک ہو یا اہل کتاب، منکر ہو یا منافق اور سُست عقیدہ اس کی کوششیں کامیاب نہیں ہوتیں۔اس کی خواہشات پوری نہیں ہوتیں بلکہ ان لوگوں کے اعمال ثمر آور ہوتے ہیں جو اپنی دعاؤں سے اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کوئی غیر تمہاری مدد کو نہیں آئے گا کیونکہ تم نے ہر غیر کو انذار اور انتباہ کر دیا ہے کہ ان کے اعمال اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل نہیں کر سکتے۔ان کا اعتقاد اللہ تعالیٰ کو پسندیدہ نہیں ہے۔تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ظلیت میں نذیر بھی ہو۔تمہارا یہ کام ہے کہ تم منکرین کو اور منافقوں اورست اعتقاد والوں کو جھنجھوڑتے رہو۔تم انہیں تنبیہ کرتے رہو۔تم انہیں جتلاتے رہو کہ جن راہوں پر تم چل رہے ہو وہ اللہ سے دُوری کی راہیں ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کی راہیں نہیں ہیں۔تم ان بتوں کے خلاف جہاد کرتے ہو جنہیں وہ خدا کا شریک بناتے ہیں۔تم ان کے ان موٹے نفسوں کے خلاف جہاد کرتے ہو جن کو انہوں نے خدا کا شریک بنالیا ہے۔تم دلیل کے ساتھ تم عاجزانہ راہوں کے اختیار کرنے کے خوش شمر حاصل کرنے کے بعد انہیں بتاتے ہو کہ تمہارا تکبر کسی کام نہیں آئے گا۔تم ان کے غرور کا سر توڑتے ہوتا کہ ان کی روح اللہ تعالیٰ کے غضب سے