خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 941
خطبات ناصر جلد دوم ۹۴۱ خطبہ جمعہ ۱۷ اکتوبر ۱۹۶۹ء کے حق میں ، وہ بشارتیں آپ کے کامل اور سچے متبعین کے حق میں پوری ہوں۔پس یہ امید نہیں رکھی جاسکتی کہ جو مشرک یا اہل کتب میں سے منکر ہیں ان کی مدد سے مسلمان اس مقصود کو حاصل کر سکیں گے جو مقصود ان کے سامنے رکھا گیا ہے۔یہی نہیں کہ یہ لوگ کوئی مدد نہیں کریں گے بلکہ مخالفت کریں گے اور اس حد تک ضد سے کام لیں گے کہ نہ صرف انسان کے اپنے منصوبے جو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق وہ بناتا ہے ان کے راستہ میں روڑے اٹکا ئیں گے بلکہ ان بشارتوں کے رستہ میں بھی روڑے اٹکائیں گے جن کے متعلق یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ آسمان سے آئی ہیں یا جن کے متعلق ان کے دلوں میں یہ شبہ ہے کہ شائد یہ آسمان سے آئی ہوں لیکن اس یقین کے باوجود کہ ان بشارتوں کا انکار نہیں کیا جاسکتا شبہ میں پڑے ہوئے ہیں اور پھر بھی یہ کوشش کرتے ہیں کہ یہ بشارتیں امت مسلمہ کے حق میں پوری نہ ہوں۔دوسری طرف ایک اور گروہ ہے اور وہ منافقوں اور شست اعتقادوں کا گروہ ہے۔ان کی کیفیت یہ ہے کہ خود قربانیاں دینے سے گھبراتے ہیں اور نہ صرف یہ کہ قربانیاں نہیں دیتے بلکہ مخلصین کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں اور پوری کوشش کرتے ہیں کہ اسلام کا میاب نہ ہو اور اس کوشش کے بعد پھر يَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوابِر وه اس انتظار میں ہوتے ہیں کہ ان کی کوششیں کامیاب ہو جائیں گی اور تم گردش زمانہ میں پھنس جاؤ گے اور تم پر ایسی مصیبت نازل ہوگی جو چاروں طرف سے گھیر لے گی اور جس سے باہر نکلنا ممکن نہیں ہوگا اور پھر اس کے معنی خالی انتظار ہی کے نہیں بلکہ اپنی کوشش کے بعد اپنی اس بد کوشش کے نتیجہ کا انتظار کرتے ہیں اور کوشش ان کی یہی ہوتی ہے کہ کسی طرح تم گردش زمانہ میں پھنس جاؤ۔کسی طرح تم مصیبتوں میں گھر جاؤ۔اس طرح جکڑے جاؤ ان دکھوں میں اور ان ناکامیوں میں کہ کامیابی کی کوئی راہ تمہیں نظر نہ آئے باہر نکلنے کا کوئی راستہ تمہارے لئے نہ ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔عَلَیهِمْ دَابِرَةُ السَّوْءِ کہ تمہارے خلاف جن دکھوں یا جن مصیبتوں یا جن ناکامیوں یا جن بدبختیوں کے لئے وہ کوشش کرتے ہیں اور پھر اس انتظار میں رہتے ہیں کہ ان کی کوششیں بار آور ہوں گی۔ان کی یہ کوششیں بار آور نہ ہوں گی بلکہ ان کے گردان کی بدبختی کچھ اس طرح سے گھیر اڈالے گی کہ وہ اس سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔اس لئے