خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 928
خطبات ناصر جلد دوم ۹۲۸ خطبه جمعه ۱۰/اکتوبر ۱۹۶۹ء کامل ظلّ بنے اور ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو گئے کہ گویا ایک ہی تصویر کے دورخ بن گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے اس حقیقت کو ایک اور مثال دے کر واضح کیا ہے اور اپنی کتابوں میں اس کا کثرت سے ذکر فرمایا ہے۔حضور نے فرمایا ہے کہ بہت ہی اعلیٰ درجہ کا شفاف آئینہ ہو ایسا مصفی آئینہ کہ جس سے زیادہ مصفی ممکن نہ ہو اس شفاف اور مصفی آئینہ میں جب کوئی شخص اپنی شکل دیکھتا ہے تو اس میں اس کے صحیح اور اصلی نقوش منعکس ہو جاتے ہیں چنانچہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس روحانی فرزند کے آئینہ محبت میں نگاہ ڈالی تو آپ کی شکل مبارک کا کامل انعکاس اس کے اندر جلوہ گر ہو گیا اور اس طرح دونوں ایک ہی وجود ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے دو دو جلوے بن گئے اس کمالِ فنا اور اس کمال ظلیت کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو وہ روحانی مقام حاصل ہوا کہ ہزاروں لاکھوں ابرار اور اخیار اور مجددین اور خلفائے راشدین آپ کی ماتحتی میں قیامت تک پیدا ہوتے چلے جائیں گے اور یہ سارے کے سارے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض سے حصہ لیتے رہیں گے اور اب جو بھی روحانی مقام ہے وہ دراصل رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ اور آپ کے روحانی فیض کا نتیجہ ہے ورنہ اور کچھ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آپ کے روحانی فیض سے کامل طور پر مستفیض ہوئے۔آپ نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں اپنے آپ کو ایسا کھو دیا اور آپ پر اس قدر فدا ہو گئےکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی کامل ظلتیت میں آپ نے ایسا مقام حاصل کیا کہ مَنْ فَرَّقَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمُصْطَفَى فَمَا عَرَفَنِي وَمَا رَأَى لَه جس نے میرے اور میرے نبی متبوع حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان فرق کیا اس نے میرے مقام کو نہیں پہچانا اور جو بعد میں آنے والے ہیں وہ بھی آپ کے ظلّ ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے طفیل حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض کو پانے والے ہیں اور ان کے لئے بھی کتاب مکنون سے اپنے اپنے زمانے کے حالات اور اپنی اپنی قابلیت اور استعداد کے مطابق معنی کھلتے چلے جائیں گے اور کھلتے چلے جارہے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قیامت تک کے لئے رموز قرآنی اور اسرار کتاب ربانی بتائے گئے ہیں اور آپ کی کتابوں پر جتنا