خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 915 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 915

خطبات ناصر جلد دوم ۹۱۵ خطبه جمعه ٫۳اکتوبر ۱۹۶۹ء لگانے کی ضرورت پڑے گی ایسے لوگ تمہارے پاس آئیں گے اور کہیں گے ہمارے پاس بڑا سرمایہ ہے ہمیں مزید کارخانے کھولنے کی اجازت دی جائے ایسے وقت ان سے کہہ دیا جائے کہ تمہارے پاس جوسرمایہ ہے وہ ظلم کے نتیجہ میں جمع ہوا ہے اس کی تو تمہیں سزاملنی چاہیے نہ کہ انعام۔انہیں نئے کارخانے لگانے کی ہرگز اجازت نہ دی جائے البتہ ان لوگوں کو اجازت ملنی چاہیے جنہوں نے اس سے قبل اپنے زائد اموال کو اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق خرچ کیا ہو۔اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان سے الدین کے معنوی لحاظ سے اقتصادیات سے تعلق رکھنے والے جو گیارہ مطالبے کئے ہیں میں نے ان مطالبات پر مشتمل اقتصادی مضمون کو اختصار کے ساتھ اس کی محض اصولی باتوں کو بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے۔اب اس مضمون کے دو حصے باقی رہ جاتے ہیں ایک تو وہ جن کا حق (ابھی تو اصولی طور پر بتایا تھا کہ دوسروں کا بھی حق پیدا ہو جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا ہے یعنی ان لوگوں کے متعلق بتانا باقی رہ جاتا ہے جن کے حقوق یا ضروریات اسی طرح کی ہوتی ہیں جس طرح دوسرے صاحب اموال کی ہوتی ہیں مگر اس دنیا میں دنیوی نظاموں کے ماتحت عدمِ انصاف کی وجہ سے یا اور کسی وجہ سے وہ محروم رہ جاتے ہیں یا جن کو بھیک منگا ہونے پر مجبور ہونا پڑتا ہے یہ کون کون سے لوگ ہیں؟ قرآن کریم نے ان کا اصولی طور پر ذکر فرمایا ہے۔غرض ایک تو ان لوگوں کے متعلق ذکر کرنا باقی رہ گیا ہے اور دوسرے اللہ تعالیٰ نے مجھے علم دیا ہے کہ قرآن عظیم کا یہ سارا مضمون سورہ فاتحہ میں بھی پایا جاتا ہے اس لئے میں نے ارادہ کیا تھا کہ اس سارے مضمون کا خلاصہ اور اجمال سورۃ فاتحہ کی تفسیر میں بیان کر دوں تا کہ یہ ساری باتیں اکٹھی ہو کر سامنے آجائیں یہ دومضامین ابھی باقی ہیں جن پر انشاء اللہ آئندہ روشنی ڈالوں گا۔روزنامه الفضل ربو ه ۱۹ / نومبر ۱۹۶۹ ء صفحه ۳ تا ۸)