خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 914 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 914

خطبات ناصر جلد دوم ۹۱۴ خطبه جمعه ٫۳اکتوبر ۱۹۶۹ء ،، تم اس کے لئے نیک نیتی کے ساتھ اعداد و شمار اکٹھے کرو کسی چیز کو پس پردہ نہ رہنے دو۔جہاں جہاں بھی کسی چیز کی ضرورت تھی تم نے اس کے پورا ہونے یا پورا کرنے کے لئے فیصلے کئے اور تمہارا اس سے سوائے اس کے کوئی اور مقصد نہیں کہ تم اس کے ذریعہ سے میری رضا حاصل کرو۔اس لئے تمہارے یہ فیصلے میری صفات کے جلوؤں کے مظہر بننے کے لئے تھے اور پھر تم نے جو منصوبہ بنایا اس میں جزا کے دو حصے ہیں۔ایک کام کرنے والے کی اُجرت کا حصہ ہے جس کی ادائیگی احسن الَّذِي كَانُوا يَعْمَلُونَ “ کے اصول کے مطابق اور بِاَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ “ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے عمل میں آنی چاہیے۔اگر تمہیں اس اصول کی رو سے تفصیل طے کرنے میں مشکل نظر آئے یعنی یہ مشکل کہ کسی کی تنخواہ کم اور کسی کی زیادہ ہو تو پھر مجموعی نفع میں حصہ دار بناؤ یعنی مزدوروں کی مقررہ تنخواہ یا اُجرت کے علاوہ ان کو حسن کارکردگی کے مطابق مجموعی نفع میں بھی شریک کرو اور یہ تو کام کرنے والے کی اُجرت تھی۔اللہ تعالیٰ کی صفت رحیمیت کے جلوے کے ماتحت اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس کی صفت رحیمیت کا ایک اور جلوہ تمہاری زندگیوں میں اس طرح بھی نظر آنا چاہیے کہ ایسے کارخانے دار جو اللہ تعالیٰ کی ہدایات کی پیروی کرنے والے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے سب اقتصادی احکام کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں تم ان کی عزّت واحترام کرو اور انہیں مزید کارخانے لگانے کی اجازت دو کیونکہ وہ اپنے اور اپنے خاندان اور دوسرے لواحقین کے حقوق کی کما حقہ ادائیگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کے حقوق کو بھی پورا کرتے ہیں اور ان ذمہ داریوں سے کما حقہ عہدہ برآ ہو جانے کی صورت میں ان کے پاس جو زائد اموال بچ جاتے ہیں وہ ان اموال کو بھی اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق اس کی مخلوق کی بہتری اور بہبودی کے لئے خرچ کرتے ہیں لیکن وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے زائد اموال تو اس لئے عطا فرمائے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہدایتوں کے مطابق جائز طریق پر خرچ کر کے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے وارث بنیں لیکن انہوں نے عقل سے کام نہ لیا غفلت کے پردوں میں پڑے رہے اور اپنے زائد اموال کو ان راہوں پر خرچ کیا جن راہوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔فرمایا جب تک یہ دنیا قائم ہے منصوبے تو بنتے رہیں گے جب بھی نیا منصوبہ بنے گانئے کارخانے