خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 894 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 894

خطبات ناصر جلد دوم ۸۹۴ خطبہ جمعہ ۲۶ ستمبر ۱۹۶۹ء میں انہیں پتہ لگا کہ تنزانیہ میں سب سے زیادہ بد مذہب ہیں ، دوسرے نمبر پر مسلمان ہیں اور سب سے کم عیسائی ہیں۔اب ایک مصیبت پڑگئی کیونکہ جس نیت سے سنسز (Census) کی گئی تھی وہ پوری نہ ہوئی۔انہوں نے ملک کی حکومت عام تاثر کے ماتحت عیسائیوں کے سپرد کر دی اور سنسز (Census) کے نتائج کا اعلان آج تک نہیں کیا۔پس سٹیٹسٹکس (Statistics ) کا علم جو اللہ تعالیٰ نے ایک نعمت کے طور پر ہمیں دیا ہے انسانی ذہن اس کو بھی دجل اور ظلم کی راہوں پر استعمال کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم نے یہ کام نہیں کرنے۔تم جب بھی اعداد و شمار اکٹھے کرو تو یہ مقصد تمہارے سامنے ہونا چاہیے کہ تمام مادی اشیا اور اسباب تمام بنی نوع انسان کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور سب کے حقوق ادا ہونے چاہئیں۔قطع نظر اس کے کہ ان کا رنگ کیا ہے۔ان کا مذہب کیا ہے، ان کے خیالات کیا ہیں ، ان کے اخلاق کیسے ہیں۔ان کا جو حق اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے وہ انہیں ملنا چاہیے کوئی دہر یہ ہو یا بد مذہب یا اللہ تعالیٰ کے انبیاء کو گالیاں دینے والا اور دکھ پہنچانے والا ہو ، اس کی جسمانی اور ذہنی (اخلاقی اور روحانی مطالبات تو ایک اور شکل میں پورے کئے جاتے ہیں) قوتوں کی صحیح نشو ونما کے لئے جن مادی اسباب کی ضرورت ہے وہ اس کے لئے رب العلمین نے پیدا کئے ہیں۔تم بھی جب اپنے کسی منصوبہ کے لئے اعداد وشمار اکٹھے کرو تو اس بات کا خیال رکھو کہ رعایا میں سے کوئی فرد واحد بھی ایسا نہ رہے جس کو اللہ تعالیٰ کا قائم کردہ حق نہ ملے۔اعداد و شمار کو غلط رنگ میں استعمال نہیں کرنا بلکہ انہیں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے مطابق استعمال کرنا ہے۔اس زمانہ میں اعداد و شمار اکٹھے کرنے مشکل نہیں اس وقت بہت سی سہولتیں حاصل ہیں۔خلافت راشدہ کے زمانہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہر گھر کے متعلق معلومات حاصل کر کے رجسٹر بنا لئے تھے اور ان کی مادی ضرورتیں ایک اصول کے ماتحت پوری کی جاتی تھیں اور وہ اصول یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو حق کسی کا قائم کیا ہے وہ اسے مل جائے اور اگر پھر بھی کچھ اموال بچ جائیں تو انہیں بعض دوسرے اصولوں کے ماتحت تقسیم کر دیا جائے یعنی اللہ تعالیٰ نے مثلاً کسی کو اتنی قوتیں اور استعداد میں دی ہیں کہ اموال کی سوا کائیاں (سو یونٹ ) اس کی کامل نشوونما کے لئے چاہئیں تو