خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 879 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 879

خطبات ناصر جلد دوم ۸۷۹ خطبہ جمعہ ۱۹ ستمبر ۱۹۶۹ء بعد تکمیل کا متکفل ہو جانا یعنی جو فطری مطلوب تھا اس کو پورا کرنا۔اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کو کسی خاص غرض کے لئے پیدا کیا ہے۔انسان کو جس غرض کے لئے اس نے پیدا کیا ہے اور اس غرض کے حصول کے لئے اس کو جن قوی کے ساتھ پیدا کیا ہے ان قومی کے تدریجی ارتقا کے بعد ان کو کمال تک پہنچانے کی ذمہ داری اس نے اپنے اوپر لی ہے۔اس معنی میں وہ رب العلمین ہے۔ذمہ داری اس معنی میں اس نے اپنے پر لی ہے کہ اس نے فرمایا کہ میں رحمن ہوں تمہاری تکمیل کے لئے اور جس غرض کے لئے تمہیں پیدا کیا گیا ہے اس کے حصول کے لئے جس چیز کی بھی ضرورت ہے وہ میں تمہیں دوں گا۔انسان کو اللہ کا بندہ بننے کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور حقیقی معنی میں ایک عبد ہونے کے لئے جس جسمانی قوت یا روحانی طاقت و استعداد کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے وہ طاقت اسے دی اور اس کی نشو و نما کے لئے جن اسباب مادیہ کی ضرورت تھی وہ اسباب مادیہ پیدا کئے۔اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے جلوے ہم پر ظاہر ہوئے۔ہمارے لئے وہ جلوے اس وقت بھی ظاہر ہوئے کہ ابھی زمانہ کروڑوں سال بعد ہماری پیدائش کا منتظر تھا مگر خدائے عَلامُ الْغُيُوبِ کو چونکہ ہمارا پتہ تھا کہ اس طرح ہم اس کی مشیت سے پیدا ہونے والے ہیں اس لئے کروڑوں اربوں سال پہلے جن چیزوں کی ہمیں اس وقت پیدائش کے بعد ضرورت تھی اور جن کی پیدائش پر کروڑوں اربوں سال گزر جانے تھے وہ کروڑوں اربوں سال پہلے پیدا کر دیں۔رحمانیت کے جلوؤں میں بڑا ہی حُسن و احسان ہمیں نظر آتا ہے۔ہر چیز جو ہمیں ملی یہ زمین اور اس کا جو فاصلہ سورج اور چاند سے ہے پیدا کی اور پھر زمین میں یہ قابلیت رکھی کہ وہ پانی کے بعد اس قسم کی غذا پیدا کرتی ہے کہ جو ہمارے جسم کو متوازن غذائیت (Nutsition) دے سکے۔متوازن غذا دے سکے اگر زمین میں مثلاً تیز اب جو ہماری غذا کا ایک حصہ ہے اتنا ہوتا جتنا اس وقت اس میں سٹارچ (Starch ) یعنی نشاستہ ہے تو یہ غذا ہم کھا کر زندہ نہ رہ سکتے۔غرض ہمارے جسموں کو جس متوازن طبیب غذا کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے اس زمین میں وہ خصوصیات پیدا کیں کہ وہ ایک خادم کی حیثیت سے اس متوازن غذا کے ہمارے لئے سامان کرے۔پھر رحیمیت ہے رحیمیت کے معنی ہیں کہ متضرعانہ دعاؤں اور اعمالِ صالحہ کو قبول کرتے ہوئے ان کا اچھا