خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 878 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 878

خطبات ناصر جلد دوم ALA خطبہ جمعہ ۱۹ ستمبر ۱۹۶۹ء سر چشمہ سے نہیں جوڑو گے، اگر تم اس انسانِ کامل صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت اور پیار اور اطاعت اور فرمانبرداری اور جاں نثاری کا تعلق قائم نہیں کرو گے جس کے طفیل اب ساری عرب تیں تقسیم ہوں گی تو پھر تمہیں یا تمہارے منصوبہ کے نتیجہ میں کسی اور کو کوئی عزت نہیں مل سکے گی۔توحید کے قیام کے لئے جیسا کہ میں نے کہا ہے دو ذمہ داریاں ہیں۔(۱) اپنے نفسوں میں توحید کو قائم کرنا (۲) دنیا میں توحید کو قائم کرنا۔اللہ تعالیٰ کی صفات کے جلوے تو بے شمار ہیں وہ گنے نہیں جا سکتے۔اس کی صفات بھی بے شمار ہیں لیکن جن صفات کو اس نے ہماری زندگی میں ظاہر کیا ہے ان میں سے چار امہات الصفات کہلاتی ہیں۔یعنی اس کا رب ہونا ، اس کا رحمن ہونا، اس کا رحیم ہونا اور اس کا مالک یوم الدین ہونا۔اگر ہم ان چار صفات کو پوری طرح سمجھنے لگیں ، اگر ہمیں یہ معلوم ہو جائے اور اس حقیقت کا اظہار ہم پر ہو جائے کہ رب کے کیا معنی ہیں۔رحمن کی صفت کے جلوے کس طرح ظاہر ہوتے ہیں۔رحیمیت اپنا ظہور کس طرح کرتی ہے اور مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ اپنے قادرا نہ تصرف کو دنیا کے سامنے کس طرح پیش کرتا ہے تو دوسری صفات کا سمجھنا آسان ہو جاتا ہے۔اس لئے سورۃ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے ان چار اُمہات الصفات کو بیان کیا اور ان کی طرف توجہ دلائی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اللہ تعالیٰ کے اس منشا کے مطابق ہم پر بڑا زور دیا کہ ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرو اور ان صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کا حکم اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت حاصل کریں کیونکہ اگر ہم ان امہات الصفات کو جو تعداد میں چار ہیں خود نہ سمجھیں اور ہماری عقل میں ان کی کیفیت اور ان کی ماہیت ( جس حد تک ہماری سمجھ ہے ) نہ آئے تو ہم اس کے مطابق اپنی زندگی میں وہ صفات کیسے پیدا کر سکتے ہیں۔صفات کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے ان صفات کی معرفت کا حصول ضروری ہے ورنہ ہم اپنی زندگیوں میں ان صفات کے پیدا کرنے کی نتیجہ خیز اور ثمر آور کوشش نہیں کر سکتے۔رَبُّ الْعَلَمِينَ کے معنی بڑے وسیع ہیں اس وقت میں اس صفت کے متعلق صرف ایک اصولی بات بیان کرنا چاہتا ہوں اور وہ بات یہ ہے کہ رب العلمین کے معنی ہیں پیدا کرنے کے