خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 853 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 853

خطبات ناصر جلد دوم ۸۵۳ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء کر رہا ہو یعنی کچھ آوازیں اس کی ہم سن سکیں اور کچھ نہ سن سکیں لیکن بہر حال کام تو وہ کچھ نہ کچھ کرے گا یا آنکھوں کی روشنی اور زبان کی لذت یا وہاں جو ا دو یہ ہیں وہ ملتی جلتی ہوں۔یوں ویسے ہم نے یہاں کب Perfect ( صحیح ) دوائیاں بنالی ہیں۔ابھی تو ملتی جلتی کو اکٹھا کرنے میں ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔اسی حالت میں انسان زندہ رہ سکے گا کیونکہ وہ اس زمین سے ملتی جلتی زندگی ہوگی۔الارض کا مفہوم اس پر بھی حاوی ہو سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی غیر محدود صفات کا تقاضا یہ ہے کہ جلوے Repeat ( دہرائے ) نہ جائیں۔جب سے انسان نے آم کھانے شروع کئے ہیں بے شمار آم پیدا ہوئے لیکن ہر آم کا درخت بھی اپنی انفرادیت رکھتا ہے اور ہر آم کا پھل بھی اپنی انفرادیت کا حامل ہے۔حساس دل و دماغ سے بہت ساری ایسی اصطلاحیں نکلتی ہیں جن کو ایک عام آدمی استعمال نہیں کر سکتا اور کسی چیز کے متعلق علم کا نہ ہو نا عدم شے پر دلالت نہیں کرتا۔یعنی جس چیز کا ہمیں ابھی تک علم نہ ہو اس سے یہ نتیجہ نکالنا بڑی ہی نامعقول بات ہے کہ اس چیز کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں۔بہر حال خدا تعالیٰ کے نزدیک قرآن کریم کی رو سے الارض ایک مخصوص مجموعہ آثار صفات کا نام ہے۔اس مخصوص مجموعہ سے دامن چھڑا کر اللہ تعالیٰ کی صفات کے ان جلوؤں سے جن کے ساتھ انسان کی مختلف قو تیں اور طاقتیں اور استعدادیں فقدرَةُ تَقْدِيرًا کے مطابق باندھی گئی ہیں ان سے الگ تھلگ رہ کر انسان زندگی نہیں گزار سکتا کیونکہ انسانی زندگی کا انحصار اسی الارض پر خدا تعالیٰ کے انہی جلوؤں پر ہے۔آج ہم تمام سائنس دانوں کو بڑے دھڑلے سے یہ چیلنج دیتے ہیں کہ تم ان زمینی خصوصیات اور ان ارضی لوازمات کے بغیر کسی دوسرے کرہ پر رہ کر تو دکھاؤ تم تو انسان کا ایک ایسا پھیپھڑا تک نہیں بنا سکتے جو اس زمینی ہوا کا محتاج نہ ہو۔تم تو ایسا انتظام بھی نہیں کر سکتے کہ پانی کے بغیر انسانی زندگی ممکن ہو۔تم تو ایک ایسا نظام بھی نہیں چلا سکتے کہ جس سے متوازن غذا کے بغیر انسانی صحت کا قائم رکھنا ممکن ہو۔صحت کے ساتھ ہی بقا بھی آجاتی ہے بعض دفعہ لمبی بیماری نوعمری کی موت پر منتج ہوتی ہیں۔صحت کا عمر کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے اور اس کا دارو مدار اللہ تعالیٰ کی صفات کے انہی جلوؤں پر ہے جنہیں زمین اپنے اندر سمیٹے ہے اور قانونِ قدرت کی