خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 852 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 852

خطبات ناصر جلد دوم ۸۵۲ خطبہ جمعہ ۵ ستمبر ۱۹۶۹ء ان پر کھولتا ہے۔دنیا میں کوئی ماں ایسا بچہ نہیں بنے گی جو قرآن کریم پر صحیح اور جائز اعتراض کر سکے کیونکہ جب بھی کوئی اعتراض پیدا ہو گا اس وقت اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور رحمت سے اُمت مسلمہ میں اپنا ایک ایسا بندہ پیدا کر دے گا جس کا خود وہ معلم بنے گا جس کو خود وہ اعتراض کا جواب سکھائے گا۔66 پس فِيهَا تَحيون“ میں قرآن کریم نے یہ دعوی کیا ہے کہ انسانی زندگی اور بقا اسی الأرض تک محدود ہے۔یعنی آثار صفات باری کے مخصوص جلوؤں ہی میں وہ زندہ رہ سکتا ہے۔انسان اس الارض کے ان جلوؤں سے باہر زندہ نہیں رہ سکتا اور نہ زندہ رہنے کا تصور ہی کرسکتا ہے۔ہم چاند پر چند گھنٹے کے لئے اُترے نہ اپنے لباس سے باہر آنے کی جرات کی۔نہ اپنے کھانے کو چھوڑ کر کوئی اور کھانے کا خیال آیا۔نہ وہاں کوئی ہو تھی جس میں سانس لے سکتے۔پس جس کرہ پر ایک سانس بھی نہیں لیا قدم رکھ کر واپس آگئے اس سے قرآن کریم کی ابدی صداقتوں پر تو کوئی حرف نہیں آتا بے شک یہ ایک کارنامہ ہے اور بہت بڑا کارنامہ ہے اس کو معمولی سمجھنا غلطی ہے لیکن اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی یہ شان نظر آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کتنی ذہنی اور دماغی قوت عطا کی ہے کہ انسان نے اللہ تعالیٰ کے قانون کو صحیح رنگ میں استعمال کر کے یہ کارنامہ انجام دیا۔الْحَمدُ لِلَّهِ ثُمَّ الْحَمدُ للهِ۔لیکن اس پر ہم کو غرور کیوں ؟ قانونِ قدرت کے مطابق وہاں گئے اور وہاں یہ بھی نہیں کیا اور نہ کر سکتے ہیں کہ (اس زمین سے باہر یعنی اس قسم کی ہوا کے بغیر ) سانس لے سکیں کیونکہ کسی جگہ بھی بعینہ ایک قسم کے جلوے ظاہر نہیں ہوتے۔كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ۔اللہ تعالیٰ کی صفات غیر محدود اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہیں کہ کوئی دو وجود یعنی مخلوقات کے کوئی دو فرد برابر نہیں کہیں بھی اللہ تعالیٰ کی صفات کا کوئی جلوہ دہرایا نہیں جانتا البتہ صفات باری تعالیٰ کے جلوے آپس میں ملتے جلتے ضرور ہیں لیکن اس کے باوجود اپنی الگ انفرادیت رکھتے ہیں۔پس اگر کسی وقت انسان ایسے کرہ میں پہنچ جائے جہاں خدا تعالیٰ کے آثار الصفات کے جلوؤں کا وہ مخصوص مجموعہ اس زمین کے مخصوص مجموعے سے ملتا جلتا ہو یعنی ہوا ہولیکن ممکن ہے آکسیجن میں کمی ہو۔کان کے لئے جو صوتی لہریں Tune ( ٹیون ) ہوئی ہیں ان کا دائرہ تنگ ہو یا Overlap ( اور لیپ )