خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 74 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 74

خطبات ناصر جلد دوم ۷۴ خطبہ جمعہ ۱۵ / مارچ ۱۹۶۸ء کو تمام ادیان پر غالب کرنا اور اللہ تعالیٰ کی محبت، ہر انسانی دل میں پیدا کرنا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کو قائم کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ وہ اسلام کو تمام دنیا پر غالب کرے گا انشاء اللہ یہ اس کی تقدیر ہے جو ہمارے ذریعہ یا ایک اور ایسی احمدی قوم کے ذریعہ سے جو ہم سے زیادہ اپنے اللہ کی آواز پر لبیک کہنے والی ہو پورا کرے گا۔اس سلسلہ میں بہت سی ذمہ داریاں ہم پر عائد ہوتی ہیں ایک بڑی اہم بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم کثرت سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنے والے ہوں۔اس لئے آج میں جماعت کو اس طرف متوجہ کرتا ہوں کہ وہ سارے کے سارے آئندہ پورے ایک سال تک جو یکم محرم سے شروع ہو گا کم از کم مندرجہ ذیل طریق پر خدا تعالیٰ کی تسبیح ، تحمید اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہام یہ بتایا تھا کہ كُلُّ بَرَكَةٍ مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہر برکت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ اور آپ کی اتباع سے حاصل کی جاسکتی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً ایک ایسی تسبیح اور تحمید اور درود کی راہ بھی دکھائی کہ جو ذ کر بھی ہے درود بھی ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاما یہ دعا سکھلائی سُبْحَانَ اللهِ وَ بِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ - اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ۔اس میں تسبیح تجمید اور درود ہر سہ آجاتے ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ تمام جماعت کثرت کے ساتھ تسبیح تحمید اور درود پڑھنے والی بن جائے اس طرح پر کہ ہمارے بڑے، مرد ہوں یا عورتیں کم از کم دو سو بار یہ تیج تحمید اور درود پڑھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہام ہوا ہے سُبحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ - اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ اور ہمارے نوجوان بچے پندرہ سال سے ۲۵ سال کی عمر کے ایک سو بار یہ تسبیح اور درود پڑھیں اور ہمارے بچے سات سال سے پندرہ سال تک ۳۳ دفعہ ی تسبیح اور درود پڑھیں اور ہمارے بچے اور بچیاں ( پہلے بھی بچے اور بچیاں ہیں ) جن کی عمر سات سال سے کم ہے جو ابھی پڑھنا بھی نہیں جانتے ان کے والدین یا ان کے سر پرست اگر والدین نہ ہوں