خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 786 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 786

خطبات ناصر جلد دوم ZAY خطبہ جمعہ یکم اگست ۱۹۶۹ء تیرے طفیل اپنے زندہ خدا سے زندہ تعلق قائم کریں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیہ کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو بہت سے روحانی معجزات عطا فرمائے تھے ان میں سے آپ کا سب سے بڑا معجزہ حسنِ اخلاق کا معجزہ تھا آپ کے اس اخلاقی معجزہ نے دنیا کے دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور انہیں غفلت کے پردوں سے باہر نکالا۔آپ کا دوسرا معجزہ جو دراصل اس اخلاقی معجزہ کے پہلو بہ پہلو چل رہا ہے وہ حسن معاملہ یا محسن سلوک کا معجزہ ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر قرآن کریم کے اس فقرہ میں فرمایا کہ اے رسول ! تجھے ہم نے رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ بنا کر بھیجا ہے۔ساری دنیا یعنی پوری انسانیت کے لئے قطع نظر اس کے کہ ان کے رنگ سفید ہیں یا گندمی سرخی مائل ہیں یا سیاہ قطع نظر اس کے کہ وہ چھوٹے قد کی قو میں ہیں یا لمبے قد کی۔قطع نظر اس کے کہ وہ امیر ہیں یا غریب۔قطع نظر اس کے کہ وہ تعلیم یافتہ ہیں یا جاہل اور تعلیم کی نعمتوں سے محروم ہیں۔قطع نظر اس کے کہ ان کی طاقتوں اور قوتوں کی صحیح طور پر نشوونما ہوئی ہے یا غلط طور پر ہوئی ہے۔ہم نے ہر ایک انسان کے لئے تجھے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ دوز بر دست ہتھیار عطا کئے گئے تھے ایک تو اخلاق ایسے کہ کسی آنکھ نے کسی اور میں ان کا مظاہرہ نہ دیکھا۔دوسرے معاملہ ایسا کہ انسانیت اپنے کمال پر پہنچ کر بھی اس قسم کے حسن معاملہ یا محسن سلوک کا مظاہرہ نہیں کر سکتی۔آپ انسانی اخلاق کا بہترین نچوڑ اور مرکزی نقطہ تھے۔اوّلین اور آخرین کے لئے برکات کا موجب تھے بنی نوع انسان کے لئے رحمتوں کا سرچشمہ تھے۔میں نے گذشتہ جلسہ سالانہ کے موقع پر بتایا تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اوّلین کے لئے موجب برکت و رحمت تھی اور آخرین کے لئے بھی موجب برکت ورحمت ہے۔لیکن اگر ہم اس پہلو سے دیکھیں کہ ہم پر تو ذمہ داری آج کے انسان کی ہے۔ہم پر تو یہ ذمہ واری آنے والے انسان یعنی اگلی نسلوں کی ہے۔ہم نے ان انسانوں کی گردنیں کاٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ان کے سروں کے مینار نہیں کھڑے کرنے ہیں ہم اس کے لئے نہ تو پیدا ہوئے ہیں اور نہ ہی ہمیں اس کا حکم ہے بہت سے بادشاہوں کا دستور رہا ہے اور