خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 785 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 785

خطبات ناصر جلد دوم ۷۸۵ خطبه جمعه یکم اگست ۱۹۶۹ء بھرا ہوا ہے بلکہ اس کے ساتھ اور اس سے بڑھ کر اور اس سے کہیں زیادہ اسلام کی دو اور زبر دست قوتیں دو حسین طاقتیں دنیا میں جلوہ گر نظر آتی ہیں۔اسلام در حقیقت انہی دو طاقتوں کے نتیجہ میں دنیا میں غالب آیا تھا آج بھی ان دو طاقتوں کی ہمیں اشد ضرور ہے۔اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کو ہمارے لئے اسوۂ حسنہ قرار دیا ہے آپ کی محبت اور پیار میں سرشار ہو کر آپ کی اتباع کرنا انسان پر اللہ تعالیٰ سے محبت اور اس کے قرب کے دروازے کھول دیتا ہے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنی نوع انسان کے دلوں کو جیتنے اور اپنی طرف مائل کرنے کے لئے جو دو عظیم طاقتیں عطا کی گئی تھیں ان میں سے ایک تو حسن اخلاق کی طاقت ہے اور دوسری حسن معاملہ یا حسن سلوک کی گو یہ دوالگ الگ فقرے ہیں لیکن دراصل یہ دونوں ایک ہی تصویر کے دورخ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن اخلاق کے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا وَ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ - (القلم : ۵ ) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ عربی میں عظیم کے لفظ کے استعمال کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کے لئے یہ لفظ استعمال ہوا ہے وہ اپنی نوع میں سب سے اعلیٰ اور ارفع ہے مثلاً یہاں مری میں چیل کے درخت بہت ہیں۔کسی چیل کے درخت کے متعلق یہ کہنا کہ یہ چیل کا عظیم درخت ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس علاقے میں اتنا بڑا چیل کا درخت اور کوئی نہیں یعنی اپنی نوع میں جس کو سب سے زیادہ عظمت حاصل ہو وہ عظیم کہلاتا ہے۔کسی کو محض عظمت کا حاصل ہو جانا اسے عظیم نہیں بنا دیتا بلکہ جس آدمی کو سب سے زیادہ عظمت حاصل ہو وہ عربی زبان کے لحاظ سے عظیم کہلاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے (اور درحقیقت دنیا کو بتانے کے لئے ) فرمایا وَ إِنَّكَ لَعَلَى خُلُقٍ عَظِيمٍ کہ اے رسول ! تجھے خلق عظیم کا ایسا عظیم الشان معجزہ دیا گیا ہے کہ تجھ سے پہلے کسی نبی کو اس رنگ میں اس عظمت و شان کا معجزہ عطا نہیں ہوا اس کے نتیجہ میں بنی نوع انسان کے دل تیری طرف مائل ہوں گے۔لوگ تجھ سے تعلق محبت قائم کریں گے وہ