خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 66 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 66

خطبات ناصر جلد دوم ۶۶ خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۶۸ء نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ایک کلام پاک ( یعنی قرآن کریم ) کی حقیقت کو بیان کیا ہے۔یعنی وہ ایسا ( كَلِمَةً طَيْبَةُ ) ہے جس کی مثال ایک پاک درخت کی طرح ہے جس کی جڑ مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ متقی بناتا اور تقویٰ کی راہوں پر ثبات قدم عطا کرتا ہے اور اس طرح اس کی جڑ مضبوطی کے ساتھ قائم ہو جاتی ہے۔پھر اس سے شاخیں پھوٹتی ہیں جو اعتقادات صحیحہ ہیں یعنی انسان کے اعتقادات شاخوں کی شکل اختیار کرتے ہیں ( تمثیلی زبان میں ) جو اوامر و نواہی پر مشتمل ہے اور یہ وہ درخت ہے جس کی ہر شاخ آسمان پر جانے والی ہے اعمالِ صالحہ کے پانی سے پرورش پانے کی وجہ سے یعنی کوئی بدی والا حصہ اس کے اندر نہیں ہر شاخ جو ہے وہ صحت مند اور نشونما پانے والی ہے اور آسمانوں تک پہنچتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ فرمایا ہے کہ جب تقویٰ کی جڑ مضبوط ہو اور اس جڑ سے نیکی کی اور پاکیزگی کی اور صلاح کی شاخیں نکلیں تو وہ شاخیں نہ صرف یہ کہ خدا تعالیٰ کے قرب کو حاصل کرتی ہیں اور روحانی بلندیوں تک پہنچتی ہیں بلکہ اس دنیا میں بھی (اُخروی زندگی میں تو ہوگا یہی ) ان شاخوں کو تازہ بتازہ پھل لگتا رہتا ہے جس سے انسان فائدہ حاصل کرتا ہے یعنی اس دنیا میں بھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا انسان کو حاصل ہو جاتی ہے اور روح کو ہر لحظہ ایک لذت اور سرور حاصل ہوتارہتا ہے ان پھلوں کے کھانے سے جن کا کھا ناروحانی طور پر ہے لیکن جب تک وہ پھل نہ ملیں وہ خوشحالی حاصل نہیں ہو سکتی ، وہ لذت اور سرور حاصل نہیں ہو سکتا وہ پھل مل نہیں سکتے جب تک اعتقادات جو ہیں وہ صحیح نہ ہوں اور اعمالِ صالحہ ان کو سیراب نہ کریں اور تقویٰ کی جڑ سے نکل کر آسمانوں تک نہ پہنچیں۔اسی صورت میں اللہ تعالیٰ انہیں قبول کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا ہمارے کسی فعل کو قبول کر لینا ہی اس کا پھل ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں انسان کو اس کی رضا حاصل ہوتی ہے۔پس ہر ایک نیکی کی جڑ یہ انتقاء ہے۔جو شخص تقویٰ کی جڑ تو نہیں رکھتا لیکن بظاہر ہزار قسم کی نیکیاں بجالاتا ہے اسے فائدہ ہی کیا کیونکہ اس سے وہ شاخیں نہیں پھوٹ سکتیں جو خدائے رحمن تک پہنچتی ہیں نہ وہ پھل لگ سکتے ہیں جو پھل کہ دوسری صورت میں ان شاخوں کو لگا کرتے ہیں اور روحانی سیری کا موجب بنتے ہیں۔