خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 62 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 62

خطبات ناصر جلد دوم ۶۲ خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۶۸ء ہدایت نامہ نہایت حسین تعلیم ایک ایسی شریعت جو زمین کی پستیوں سے اُٹھا کر آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچانے والی ہے تمہارے ہاتھ میں دی جا رہی ہے لیکن یہ نہ بھولنا کہ یہ شریعت صرف ان لوگوں کو کامیابی تک پہنچانے والی ہے جو مضبوطی کے ساتھ تقویٰ کو اختیار کرتے ہیں اگر کوئی شخص بڑی نمازیں پڑھنے والا ہو، اگر کوئی شخص بظاہر اپنے مال کو مستحقین میں بڑا ہی خرچ کرنے والا ہو ، اگر کسی شخص (کی) زبان نہایت ہی میٹھی ہو ، اگر کوئی بظاہر انتہائی ہمدردی اور خیر خواہی کرنے والا ہولیکن اگر اس کے یہ اعمال تقویٰ کی بنیادوں پر قائم نہیں کئے جاتے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور قبول نہیں ہو سکتے۔اس لئے باوجود اس کے کہ مکمل ہدایت نامہ ہے پوری طرح اس پر عمل کر کے بھی اگر تقویٰ سے خالی ہو کامیابی کو تم نہیں پاسکتے کامیابی کو وہی پائیں گے جو تقویٰ کو مضبوطی سے پکڑتے ہوئے اسلامی احکام کی پابندی کریں گے۔دوسری جگہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ المُتَّقِينَ (المآئدۃ:۲۸) جو شخص تقویٰ کی باریک راہوں کو اختیار کرے گا اس کے اعمال قبولیت کا درجہ حاصل کریں گے ورنہ وہ رڈ کر دیئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان پر کسی ثواب کا فیصلہ نہیں کرے گا تو ھدی للمتقین میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ وہی لوگ اس ہدایت سے فائدہ اٹھائیں گے اور اٹھانے والے ہوں گے جو اتقاء کی صفت میں استحکام اختیار کریں گے جن کا تقویٰ بڑی مضبوط بنیادوں کے اوپر قائم ہو گا ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کو قبول نہیں کرے گا۔تقویٰ بھی جیسا کہ ہر دوسری چیز اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی حاصل ہو سکتا ہے جیسا کہ سورۃ فتح : ۲۷ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقوی کہ تقویٰ کے طریق پر ان کے قدم کو خود اس نے مضبوط کر دیا ہے۔انسان اپنی کوشش سے اور اپنی جد و جہد سے تقویٰ کی راہوں پر مضبوطی سے قدم نہیں مارسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقویٰ کے یہ معنی کئے ہیں۔آپ ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحہ ۵۲ میں فرماتے ہیں۔اور تقویٰ یہ ہے کہ انسان خدا کی تمام امانتوں اور ایمانی عہد اور ایسا ہی مخلوق کی تمام امانتوں اور عہد کی حتی الوسع رعایت رکھے یعنی ان کے دقیق در دقیق پہلوؤں پر