خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 61
خطبات ناصر جلد دوم ۶۱ خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۶۸ء تقومی کسی ایک عملِ صالح کا نام نہیں بلکہ تمام نیک اعمال و اقوال کی کیفیت کا نام ہے خطبه جمعه فرموده یکم مارچ ۱۹۶۸ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔قرآن کریم میں جس قدر زور تقوی اختیار کرنے پر دیا گیا ہے اتنا کسی اور حکم کے متعلق نہیں دیا گیا اس کی وجہ یہ ہے کہ تقویٰ کسی ایک نیک بات یا پاک اعتقاد یا صالح عمل کا نام نہیں بلکہ تمام اعمال کی کیفیت کا نام ہے، تمام نیک اقوال کی کیفیت کا نام ہے، تمام پاکیزہ اعتقادات جو ر کھے جاتے ہیں ان کی کیفیت کا نام ہے اس کا تعلق ہر قول اور ہر اعتقاد اور ہر فعل کے ساتھ ہے جو صالح ہو، نیک اور پاک ہو۔شروع میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ میں ہمیں بڑے زور کے ساتھ اس طرف متوجہ کیا یہ بیان کرنے کے بعد کہ الکتاب تم پر نازل کی جارہی ہے۔جس کے اندر کوئی ریب راہ نہیں پاسکتا۔ایک کامل اور مکمل ہدایت نامہ جس کے بغیر ہم حقیقی معنی میں نہ دنیوی ارتقائی منازل طے کر سکتے ہیں نہ روحانی بلندیوں تک پہنچ سکتے ہیں وہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیا جا رہا ہے۔الکتب اور لَا رَيْبَ فِیهِ اس کی صفات ہیں لیکن ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ هُدًى لِلْمُتَّقِيْنَ ایک