خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 725 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 725

خطبات ناصر جلد دوم ۷۲۵ خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۶۹ء پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی کبھی اس دنیا میں کبھی اگلے جہان میں جواب طلبی کرے گا اگلے جہان میں تو سب کی جواب طلبی ہو گی لیکن بعض کی اس دنیا میں بھی ہو جاتی ہے۔اس حقیقت کے باوجود جولوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کو ٹھکرا دیتے ہیں ان کے ساتھ اس کا اس قسم کا سلوک تو نہیں ہوتا جو اس کا اپنے پیاروں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن ان کی ضرورتوں کو پورا کرنا ، ان کی تکلیفوں کو دور کرنا اور ان سے حسن سلوک سے پیش آنا ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات کا ملہ کے نتیجہ میں کسی کور بوبیت سے محروم نہیں کرتا حتی کہ بعض دفعہ ایسے لوگوں کی دعاؤں کو بھی شرف قبولیت بخشتا ہے اگر ہم خدا تعالیٰ کے بندے ہیں اور یقیناً ہم اس کے بندے ہیں اس نے ہمیں علی وجہ البصیرت اس یقین پر قائم کیا ہے کہ بندگی صرف اس کی کرنی ہے اور قرآن کریم کی رو سے بندگی کے کیا معنے ہیں؟ اس کی صحیح تفسیر ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ یکھی ہے۔پس ہمارا حسن سلوک اور ہمارے اخلاق کا معیار وہ اخلاق ہونے چائیں جن کو قرآن کریم نے بیان کیا ہے یا جن کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ سے پتہ لگتا ہے یا جن کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تفسیر کی اور اپنے اسوہ سے ہمیں بتایا کہ جہاں تک دنیوی ضروریات کے پورا کرنے کا سوال ہے قطع نظر اس کے کہ کسی کا کیا عقیدہ ہے وہ پوری ہونی چاہئیں اور جہاں تک روحانی ضروریات کا سوال ہے قرآن کریم کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق جبر کے بغیر نیکی و تقویٰ اور حق و صداقت کو محبت اور پیار سے ہر انسان کے سامنے پیش کرنا چاہیے۔پس علمی دلائل جو ہم اپنے مجاہدہ سے سیکھ سکتے ہیں اور ہمارے بزرگوں نے ہمیں سکھائے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اور طہارت قلب اور تزکیۂ نفس کے نتیجہ میں انسان کو حاصل ہوتے ہیں یہ ایک مستقل حیثیت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے حق میں ہمارے ہاتھ میں ایک بڑا ز بر دست ہتھیار دیا ہے اور ایسے لوگ ہزاروں کی تعداد میں اُمّتِ مسلمہ میں پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ سے علم حاصل کیا اور آگے دوسروں کو سکھا یا پھر وہ آسمانی تائیدات جن کا اس مادی دنیا کے ساتھ تعلق ہے جیسے مثلاً مکہ کا فتح ہو جانا ایک زبر دست نشان تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کفار مکہ کی زبر دست مخالفتوں کے باوجود مکہ سے بحفاظت نکلنا بڑا عظیم نشان ہے پھر قیصر و کسری