خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 724
خطبات ناصر جلد دوم ۷۲۴ خطبہ جمعہ ۴ جولائی ۱۹۶۹ء بڑے بڑے مخالفوں کو جو عملاً مخالفت کرنے والے تھے لیکن اگر وہ مستحق ہوتے تھے تو ہم ان کو مالی امداد دیتے تھے۔۱۹۵۳ء کے فسادات میں دو ایسے طالب علم بھی تھے جو اپنی جہالت اور جنون میں بہہ کر احمدیوں کے خلاف بر پا کی جانے والی شورش جس میں گھروں کو جلانا اور احمد یوں کو مارنا پیٹنا وغیرہ شامل تھا اس میں وہ حصہ لیتے تھے اور مجھ سے وظیفہ حاصل کرتے تھے۔ایک دفعہ ہمارے کالج کے ایک استاد میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یہاں سے یہ وظیفہ لے رہے ہیں اور احمدیوں کے گھروں کو جلانے والے mobs میں جا کر شامل ہو جاتے ہیں (اگرچہ میرے نزدیک ان کا یہ طرز عمل ایک کمزوری کے مترادف تھا لیکن بہر حال انسان کا دماغ اس طرف بھی جاسکتا ہے ) میں نے انہیں جواب دیا کہ میں ان کو اس لئے تو وظیفہ نہیں دے رہا کہ احمدیوں کے گھروں کو آگ نہیں لگا رہے اور اگر نہ لگائیں تو ان کا وظیفہ بند ہو جائے۔وظیفہ دینے کا مقصد کچھ اور ہے جہاں تک مذہب کا سوال ہے وہ میرے سامنے جواب دہ نہیں ہیں۔میرے سامنے اگر جواب دو ہوں تو میں آج ہی بلا کر ان کی جواب طلبی کروں۔میں ایک ایسے معاملہ کی جس کے متعلق وہ خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہیں کس طرح جواب طلبی کر سکتا ہوں۔لیکن میں نے ان سے کہا کہ اچھا ان کو میرے پاس لاؤ میں ان سے سوال کرتا ہوں۔وہ میرے پاس آئے میں نے ان سے کہا کہ دیکھو بات یہ ہے کہ جہاں تک مذہب کے عقائد کے غلط یا صحیح ہونے کا تعلق ہے تم اپنے رب کے سامنے جواب دہ ہو گے۔مگر سوچ لو تم یہ یہ حرکتیں کر رہے ہو خدا تعالیٰ جب تم سے ان کے متعلق پوچھے گا تو تم کیا جواب دو گے تم نہ میرے سامنے جوابدہ ہو اور نہ میں تم سے پوچھتا ہوں لیکن ہوٹل کے قواعد میں نے بنائے ہوئے ہیں ان کے متعلق تم سے جواب طلبی ہو سکتی ہے اس واسطے رات کو نو بجے کے بعد ہوٹل سے غائب نہیں ہونا۔دن کو جو تمہاری مرضی آئے کرتے رہو میرا کوئی اعتراض نہیں ہے۔نصیحت اور چیز ہے سمجھانا اور چیز ہے لیکن میں تمہیں نہیں روکوں گا اور نہ ہی اس کی وجہ سے میں تمہارا وظیفہ بند کروں گا۔گو میرے نزدیک یہ باتیں اچھی نہیں لیکن اگر تم ان کو بُرا نہیں سمجھتے تو یہ ایک ایسی بات ہے جس کا تعلق میرے ساتھ نہیں۔اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے اس کے سامنے جا کر جواب دہ ہونا۔