خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 721
خطبات ناصر جلد دوم ۷۲۱ خطبہ جمعہ ٫۴جولائی ۱۹۶۹ء بنایا ہے وہ ہر جمعہ کی نماز میں شامل ہوتے ہیں وہ لوگوں کے لئے ایک نشان بھی ہیں ) میرے اس خواب کی مثال بیان کرنے پر وہ دوست کہنے لگے کہ یہ تو اس کی اتنی راز کی بات تھی خدا تعالیٰ کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ اس باورچی کو یہ بتا تا۔ضرور اس کو پتہ لگ گیا ہو گا کس قدر بدظنی ہے۔یہ لوگ سمجھ ہی نہیں سکتے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں سے کتنا پیار کا سلوک ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ اس کو بتانا چاہتا تھا کہ اے باورچی !تو نے میری خاطر احمدیت کو قبول کیا اور اسلام کی خاطر قربانیاں دی ہیں میری نگاہ میں تیرے ملک کے پرائم منسٹر (Prime Minister) سے تیری عزت زیادہ ہے۔خدا تعالیٰ اس کو بات بتا کر اس کی عزت اور اپنے پیارے کا اعلان کر رہا تھا مگر یہ بات ان کے دماغ میں نہیں آتی اور دنیا اس بات کو نہیں سمجھتی لیکن جن کو یہ باتیں سمجھ آگئی ہیں ان کو یہ بھولنی نہیں چاہئیں ورنہ ہمارا بھی وہی حشر ہوگا جو پہلوں کا ہوا تھا۔جو آسمانی نشان یا خوارق ہیں ان میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک چیز بڑی نمایاں کر کے دنیا کے سامنے پیش کی ہے یہ ایک ایسی بات ہے کہ عام طور پر انسان کا دماغ اس طرف جاہی نہیں سکتا۔آپ نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جوسب سے بڑا معجزہ عطا ہوا تھا وہ اچھے اخلاق کا معجزہ ہے آپ کو ایسا خُلقِ عظیم عطا ہوا تھا جس کی دنیا جہان میں کوئی مثال نہیں مل سکتی غرض یہ خلق ایک خارقِ عادت چیز ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا ہوئی اور اب آپ کی ظلیت اور آپ کے طفیل اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے تمام جماعت نے حاصل کی ہے۔آج میں جہاں اور باتوں کی طرف توجہ دلا رہا ہوں وہاں خاص طور پر اچھے اخلاق پیدا کرنے کے متعلق بھی توجہ دلا نا مقصود ہے۔ہمارا فرض ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق عظیم کے نمونہ پر اپنے اندر اچھے اخلاق پیدا کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اس مادی دنیا میں بعض دوسرے خوارق اتنا اثر نہیں پیدا کرتے جتنا اچھے اخلاق پیدا کرتے ہیں مثلاً کفار مکہ کا ایک لمبے عرصہ تک مخالفت اسلام کے باوجود اور دنیا میں اس زمانہ کے لحاظ سے سب سے بڑی طاقت ہونے کے باوجود سرنگوں ہو جانا یہ بھی ایک بہت بڑا معجزہ تھا لیکن