خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 651 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 651

خطبات ناصر جلد دوم ۶۵۱ خطبہ جمعہ ۲۳ رمئی ۱۹۶۹ء بلکہ سرا ہوتے ہیں۔وقف عارضی کی مالی قربانی کی طرح تحریکیں تو ہوتی رہیں گی لیکن بہت سی تحریکیں ایک خاص وقت پر شروع ہوتی ہیں لیکن وہ چلتی چلی جاتی ہیں جب تک کہ قوم زندہ رہے اور وہ اپنی آخری اور انتہا ئی فلاح کو حاصل نہ کر لے۔تحریک جدید بھی اسی قسم کی تحریکوں میں سے ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ وقف عارضی کو بھی اسی طرح چلنا چاہیے اور تحریکیں بھی اپنے وقت پر ہوتی رہیں گی۔اللہ تعالیٰ نے جماعت کو اس مقام سے گرنے سے بچانے کے لئے جہاں وہ آج پہنچ چکے ہیں ان کے اوپر اُٹھانے کا سامان کر دیا ہے۔دماغ میں ایک بات آتی ہے پیش کر دی جاتی ہے۔بشاشت سے قبول کی جاتی ہے اور کام شروع ہو جاتا ہے۔اس سال ممکن ہے فضل عمر فاؤنڈیشن کا سال ختم ہونے کی وجہ سے تحریک جدید کے وعدوں میں کمی ہو۔تحریک جدید کے وعدے پچھلے سال کے وعدوں تک بھی نہیں پہنچے۔قریباً بیس ہزار روپے کا فرق ہے۔گزشتہ سال پانچ لاکھ نوے ہزار کے وعدے تھے۔اس سال اس وقت تک پانچ لاکھ ستر ہزار کے وعدے ہوئے ہیں اور ابھی وعدے لکھوانے میں اور ادائیگیوں میں بھی بڑا وقت ہے لیکن ہم نے اپنے سامنے جو ایک Target رکھا ہے یعنی ہم نے جو فیصلہ کیا ہے کہ تحریک جدید میں اتنی رقم جمع ہو پاکستان کی جماعت کو وہ جمع کرنی چاہیے اور یہ طے شدہ منصوبہ سات لاکھ نوے ہزار کے بجٹ پر پر مشتمل ہے اس کے مقابلہ میں یہ وعدے بہت کم ہیں۔جیسا کہ میں نے اپنے ایک خطبہ میں بتایا تھا کہ جماعت میں استعداد ہے کہ وہ تحریک کا سات لاکھ نوے ہزار کا بجٹ پورا کر سکے اگر وہ تحریک جدید کی اہمیت کو سمجھیں اگر وہ ان الہی برکتوں کا احساس رکھیں جو تحریک جدید میں معمولی اور حقیر قربانیوں کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ سے ہم نے حاصل کی ہیں اگر وہ اسلام کی ضرورت کو پہچانیں اور یہ یقین رکھیں کہ ضرورت وقت سے شاید ہزارواں حصہ بھی نہیں جو ہم دے رہے ہیں لیکن جتنا ہم دے سکتے ہیں وہ ہمیں دینا چاہیے تا کہ جو ہم نہیں دے سکتے اور جس کی ضرورت ہے اس کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور اپنی برکت سے پورا کر دے۔پس وعدوں کے لکھوانے کی طرف فوری توجہ دیں اور پھر ۳۰/ جون کے بعد وصولیوں