خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 650
خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۲۳ رمئی ۱۹۶۹ء ہمیں نظر آتی ہے اور بھی بہت سی خصوصیات ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ سر درد کی وجہ سے میں اس وقت زیادہ تفصیل میں نہیں جا سکتا۔جماعت کو میں اس وقت اس طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک بہت بڑی نشانی تحریک جدید کی شکل میں اپنے پیچھے چھوڑی ہے۔آپ کے وصال کے بعد جماعت کے مشورہ سے ہم نے فضل عمر فاؤنڈیشن کی بنیا د رکھی اور اس کے لئے جماعت نے مالی قربانیاں دیں اور اس کے سپرد بعض کام بھی کئے گئے ہیں لیکن تحریک جدید کے مقابلہ میں یہ مالی قربانیاں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔جتنی اس وقت تمام دنیا کے احمدیوں نے تحریک جدید کے لئے مالی قربانی دی ہے شاید اس کا بارہواں یا پندرہواں یا بیسواں حصہ بھی فضل عمر فاؤنڈیشن کی مالی قربانی نہ ہو کام بھی اس (فضل عمر فاؤنڈیشن ) کے محدود ہیں اور اس کے وعدوں کی وصولی کا زمانہ بھی ۳۰ / جون کو ختم ہو رہا ہے۔اس لئے آپ اس کی طرف زیادہ توجہ دیں ( میں یہ نہیں کہتا کہ تحریک جدید کی طرف توجہ نہ دیں۔ہماری بھاری اکثریت ایسی ہے کہ جو دونوں تحریکوں کے وعدے پورے کر سکتی ہے ) لیکن بہر حال ۳۰ر جون کو فضل عمر فاؤنڈیشن کا کھا نہ تو بند ہو جائے گا لیکن تحریک جدید کا کھانہ تو نہ اس سال بند ہوگا اور نہ اگلے سال۔اللہ تعالیٰ فضل کرے گا اور بھی بہت ساری تحریکیں خلفائے جماعت احمدیہ کے ذریعہ جاری کرے گا۔اس میں دوست کبھی کسی شکل میں اور کبھی کسی شکل میں مالی قربانی بھی دیں گے۔اب میں نے وقف عارضی کی جو تحریک کی ہے اگر ایک ہزار آدمی پندرہ دن کے لئے باہر جائے تو ان کے کرایہ کا خرچ ان کے زائد کھانے کا خرچ وغیرہ ملا کر لاکھوں کی رقم بن جاتی ہے لیکن اس کی شکل ایسی ہے کہ جو کسی حساب یا چندے میں نہیں آتی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ظاہر اور باطن خرچ کی ہدایت دی گئی ہے خدا تعالیٰ نے اس کے لئے یہ راستہ کھول دیا ہے کہ تحریک جدید میں تم ظاہری طور پر چندے دیتے ہو یہ اعلانیہ چندے ہیں ریکارڈ ہوتے ہیں، چھپتے ہیں، رپورٹیں پڑھی جاتی ہیں لیکن کچھ ایسے خرچ بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں کئے جاتے ہیں جو اعلانیہ نہیں ہوتے