خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 640 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 640

خطبات ناصر جلد دوم ۶۴۰ خطبہ جمعہ ۱۶ رمئی ۱۹۶۹ء نتیجہ پر پہنچ سکوں اگر آپس میں تضاد ہو تو پھر میں تحقیق کے ذریعہ کسی نتیجہ پر پہنچ سکتا ہوں۔ہم نے اس شہر کو قادیان کی یاد میں آباد کیا ہے اور قادیان میں باوجود اس کے کہ وہاں ہندو، سکھ اور دہر یہ وغیرہ لوگ بھی رہتے تھے اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے وہاں ایک خاص رنگ جماعتی ماحول میں پیدا کر دیا تھا۔یہاں نہ ہندو ہیں اور نہ سکھ ہمارے رستہ میں کوئی روک نہیں لیکن پھر بھی محبت الہی کا وہ رنگ پوری طرح ہمیں نظر نہیں آتا جو قادیان میں نظر آتا تھا۔اس کی ایک وجہ تو یہ ہے (اور یہ بڑی نمایاں وجہ ہے ) کہ اس عرصہ میں ہزاروں کی تعداد میں جماعت میں نئے دوست شامل ہوئے ہیں۔ان کے بچے ہمارے نقطہ نگاہ سے زیادہ تربیت یافتہ نہ تھے۔ان کے دل میں تربیت حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا اور وہ ربوہ میں آباد ہو گئے اور انہوں نے بچوں کو یہاں سکولوں میں داخل کر دیا ہے۔ان میں سے بعض بچے ہمارے ماحول کو خراب کرتے ہیں۔بعض دفعہ یوں ہوتا ہے کہ دیہات سے چار، پانچ بچے آ جائیں تو جس محلہ میں وہ رہیں وہاں سے شکایتیں آنی شروع ہو جاتی ہیں کہ بچے گالیاں دیتے ہیں۔باہر سے جو آدمی آئے اسے پس منظر کا پتہ نہیں ہوتا اس لئے وہ کہہ دیتا ہے کہ ربوہ میں تربیت کا کوئی انتظام نہیں ہے۔میں فلاں جگہ سے گزر رہا تھا میں نے دیکھا دو تین بچے ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے تھے۔اس کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ یہ دو تین بچے ایسے نئے احمدی خاندانوں کے بچے ہیں جو ابھی مہینہ دو مہینہ ہوئے یہاں آباد ہوئے تھے لیکن صرف یہ کہہ دینا موجب تسلی نہیں کیونکہ اگر ہم نے ان کی تربیت نہ کی تو دو چار مہینے کے بعد وہ ہماری فضا کو خراب کر دیں گے اور یہاں کے رہنے والے بچوں کو بھی انہیں دیکھ کر گندی گالیاں دینے کی عادت پڑ جائے گی اور بجائے اس کے کہ وہ یہاں آکر تربیت حاصل کریں وہ ہمارے دوسرے بچوں کی تربیت بھی خراب کر دیں گے اس لئے ہمیں ہر وقت چوکنا اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔پھر نظارت اصلاح وارشاد کا تربیت کا کام ہے ان کی طرف سے بھی رپورٹ آنی چاہیے کہ اہل ربوہ قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیان فرمودہ تفسیر اور دوسرا اسلامی لٹریچر پڑھنے اور خطبات سننے کی طرف متوجہ ہیں جہاں تک خطبات کا