خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 625
خطبات ناصر جلد دوم ۶۲۵ خطبہ جمعہ ۹ رمئی ۱۹۶۹ء اطاعت کرنی ہے، ادب سے پیش آنا ہے۔انہیں اُف تک نہیں کہنا۔ہر طرح ان کو آرام دینا ہے اور خوش رکھنے کی کوشش کرنا ہے وغیرہ وغیرہ۔بے شمار ذمہ داریاں ہیں۔لیکن ساتھ یہ کہہ دیا کہ اگر شرک کی کوئی بات کریں ، خدا سے دور لے جانے والی کوئی بات کریں تو پھر ان کی بات نہیں مانی۔تو ایسی روح تمام تعلقات توڑ دیتی ہے جو خدا کے سوا ہوں۔صرف ایک تعلق جو حقیقی تعلق ہے اس کا قائم ہو جاتا ہے اور اس تعلق کے نتیجہ میں پھر جس سے خدا جس حد تک تعلق قائم کرنے کو کہتا ہے وہ کرتا ہے نہ اس سے زیادہ نہ کم۔گویا ہر ماسوا اللہ حقیقت میں کچھ نہیں نہ کوئی عظمت اس کی ، نہ کوئی جلال اس کا ، نہ کوئی عزت اس کی ، نہ کوئی احترام اس کا ، نہ کوئی خوف اس کا ، نہ کوئی ڈر اس کا کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔سب کچھ خدا کے لئے ہو گیا۔خدا سے ایک رشتہ محبت قائم ہو گیا۔جس کے بعد کوئی اور رشتہ قائم نہ رہا۔جس کے بعد کسی اور رشتہ محبت کی ضرورت باقی نہ رہی۔یہ دوسری صفت ہے جو اس قسم کی دعا میں پائی جانی چاہیے۔جس کے نتیجہ میں اس روح میں بھی یہ حقیقت پیدا ہو جاتی ہے پھر آپ فرماتے ہیں :۔’ اور اس کا سجدہ یہ ہے کہ وہ خدا کے آستانہ پر گر کر اپنے تئیں بکلی کھو دیتی ہے اور 66 اپنے نقش وجود کو مٹا دیتی ہے۔یہی نماز ہے جو خدا کو ملاتی ہے۔دوم :۔تو یہ تھا کہ کوئی غیر جو ہے وہ باقی نہیں رہتا۔اس کے ساتھ جو بھی رشتہ ہے وہ خدا میں ہوکر اس کے احکام کی روشنی میں قائم ہوتا ہے۔تیسرا یہ ہے کہ اپنا وجود بھی باقی نہیں رہتا۔اپنا وجود بھی خدا کے سپر د ہو جاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے اس کا جو خلاصہ نکالا ہے ( یہ حوالے مختلف جگہوں کے ہیں میرے ذہن نے ان کو اکٹھا کیا ہے ویسے تو ہر دعا کے ساتھ ان دو چیزوں کا تعلق ہے لیکن حقیقتاً اس بنیادی دعا کے ساتھ تعلق ہے ) وہ یہ ہے کہ اس اصلی اور بنیادی دعا کے لئے دو چیزوں کا تصور ضروری ہے۔ایک اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کا تصور اس کی ذات کی معرفت اور اس کی صفات کا عرفان اور اس حقیقت کا احساس کہ یہ صفات کا ملہ ہمیشہ