خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 588
خطبات ناصر جلد دوم ۵۸۸ خطبہ جمعہ ۱/۲۵ پریل ۱۹۶۹ء انسان پر عائد کرتی ہے ان ذمہ داریوں کو نباہنے والا ہو۔جیسا کہ میں نے بتایا تھا یہ مضمون مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کے فقرہ میں بیان ہوا ہے۔یعنی صرف عبادت کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ یہ کہہ کر عبادت کا حکم دیا گیا ہے کہ عبادت کرو اور دین کو اس کے لئے خالص کر وتب عبادت کے تقاضے پورے ہوں گے۔عبادت کے سات تقاضوں کے متعلق میں پچھلے دو خطبات میں بیان کر چکا ہوں۔دین کے آٹھویں معنی تدبیر کے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم میری عبادت کا حق ادا نہیں کرسکو گے اگر تمہاری تمام تدابیر خالصہ میرے لئے نہ ہوں۔اس سے ہمیں پہلی بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ اسلام نے تدابیر کو نہ صرف جائز قرار دیا ہے بلکہ تدبیر کو عبادت کا ایک حصہ بنادیا ہے۔ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جانے اور پھر یہ سوچنے یا یہ کہنے کو بُرا سمجھا ہے کہ جو خدا چاہے گا وہ ہو جائے گا جس کا حقیقتاً یہ مطلب ہوتا ہے کہ اگر ہم تدبیر کریں تو پھر ہماری مرضی چلے گی جو خدا چاہے گا وہ نہیں ہوگا۔ایک سیکنڈ کے لئے بھی ہم یہ تصور اپنے دماغ میں نہیں لا سکتے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تدبیر ضرور کرو ہو گا وہی جو خدا چاہے گا لیکن تم پر یہ فرض ہے کہ تم جائز تدا بیر سے کام لو جو شخص اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی نعمتوں سے کام نہیں لیتا وہ اللہ تعالیٰ کا ناشکرا اور اس کا کفر کرنے والا ہے اور وہ شرک میں ملوث ہے تو مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّین کے اس فقرہ میں دین بمعنی تد بیر یہ مضمون بیان کرتا ہے کہ جائز تد بیر ضرور کرنی ہے۔تدبیرید دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ تم جو بھی تدبیر کرو اس میں اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص ہو۔اسے تم عبادت کا حصہ بناؤ۔صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو اپنے کمال پر پہنچنے کی وجہ سے اگر مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ پر عمل کیا جائے ) تو ہر دنیوی تد بیر کو عبادت کا رنگ دے دیتا ہے۔ایک شخص اپنے گھر کے کمروں میں روشندان بناتا ہے وہ یہ نیت بھی کر سکتا ہے کہ ہوا آئے گی ، روشنی آئے گی ، دھوپ آئے گی مجھے اور دنیوی فائدہ حاصل ہوگا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اس نیت کی بجائے یہ نیت کیا کرو کہ کان میں اذان کی آواز آئے گی۔وقت پر باجماعت نماز کے لئے پہنچ جاؤں گا تو یہ اس روشن دان کی تدبیرا خلاص کے اس پہلو کی وجہ سے عبادت بن جائے گی۔روشن ( دان ) اسی طرح دھوپ دے گا کوئی فرق نہیں پڑے گا۔گرم اور گندی ہوا اسی طرح باہر نکل