خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 587 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 587

خطبات ناصر جلد دوم ۵۸۷ خطبہ جمعہ ۱/۲۵ پریل ۱۹۶۹ء حقیقی عبادت کا تقاضا ہے کہ انسان محض رضاء الہی کی خاطر د نیوی تدابیر کو اختیار کرے خطبه جمعه فرموده ۲۵ را پریل ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے یہ آیات تلاوت فرمائیں۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ - (التريت : ۵۷) وَمَا أُمِرُوا إِلا لِيَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلوةَ وَيُؤْتُوا الزكوة وَذَلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ - ( البينة : ٢) پھر فرمایا:۔میں نے پچھلے دو خطبات میں بتایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس غرض کے لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس کی سچی اور حقیقی عبادت کرے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے انبیاء علیہم السلام کے ذریعہ سے بھی اور کامل اور مکمل شریعت لانے والے خاتم النبیین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بھی انسان کو صرف ایک ہی بنیادی حکم دیا اور وہ یہ ہے کہ انسان صرف اس کی عبادت کرے۔اسلام نے قرآن کریم میں ہمیں یہ بتایا ہے کہ عبادت کے یہ معنی نہیں کہ انسان دنیا سے علیحدہ ہو جائے اور بظاہر خدا تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے بلکہ حقیقی عبادت کے بہت سے تقاضے ہیں اور یہ ضروری ہے کہ انسان سب تقاضوں کو پورا کرنے والا ہو۔عبادت الہی جو ذمہ داریاں