خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 582 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 582

خطبات ناصر جلد دوم ۵۸۲ خطبه جمعه ۱۸ را پریل ۱۹۶۹ ء لیکن یہ خواہش رکھنا کہ باہر سے کپڑا ضرور آتا رہے میرے نزدیک بے غیرتی ہے۔کئی دفعہ مجھے خیال آتا ہے کہ اگر باہر سے کپڑے کی درآمد بالکل بند کر دی جائے یا باہر سے موٹروں کی درآمد بالکل بند کر دی جائے یا اور بہت سی چیزیں ہیں اگر ان کی درآمد بند کر دی جائے تو ہمیں کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ نقصان کی بجائے ہمیں فائدہ ہوگا۔مثلاً عورتوں کے استعمال کی چیزیں لپ سٹک اور فیس پوڈر وغیرہ ہیں ان کی درآمد بند کر دینے سے نقصان کی بجائے ملک کو فائدہ ہوگا جومستورات ان چیزوں کا استعمال کر رہی ہیں ان کی صحت پر بھی اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ان کے حقیقی آرام پر بھی اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ان کی عزت اور وقار پر بھی اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا ان کی جو زندگی خدا کے نزدیک مقدر ہے یعنی عام حالات میں جتنے سال انہوں نے زندہ رہنا ہے اس پر بھی اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن جن مستورات کو ان چیزوں کی عادت پڑ چکی ہے وہ شور مچادیں گی کہ ہائے مرگیاں لپ سٹک دے بغیر کس طرح زندہ رہواں دیاں“ حالانکہ لپ سٹک کا ان کی زندگی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہاں ان کی عادت کے ساتھ اس کا ضرور تعلق ہے۔غرض بری عادتوں میں سب سے زیادہ خرابی یہ ہے کہ وہ انسان کو غیر اللہ کی طرف جھکنے پر مجبور کر دیتی ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ملہ سے ایسے سامان پیدا کئے ہیں کہ کوئی انسان اپنی نشوونما اور اپنی ارتقا کے لئے غیر اللہ کا محتاج نہیں ہے لیکن گندے ماحول کے نتیجہ میں ایسی بُری عادتیں پڑ جاتی ہیں کہ بعض مضحکہ خیز مطالبے شروع ہو جاتے ہیں۔جہاں تک لپ سٹک یا موٹر کا سوال ہے یا درآمد کئے ہوئے کپڑوں کا سوال ہے میری ذاتی رائے یہ ہے کہ ان کے استعمال کو ترک کرنے سے قوم کو فائدہ پہنچ سکتا ہے نقصان کوئی نہیں پہنچے گا۔ان لوگوں کو بھی جن کو مثلاً بڑی بڑی کاریں استعمال کرنے کی عادت پڑی ہوئی ہے اس کا کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔جہاں تک کپڑے کا سوال ہے اگلے دس پندرہ سال تک ان کی عادتیں پوری ہوتی رہیں گی کیونکہ انہوں نے اتنے جوڑے بنائے ہوئے ہیں کہ وہ دس پندرہ سال تک چلیں گے۔صرف جہاں تک روز نئے سوٹ اور جوڑے پہننے کا سوال ہے اس میں ضرور فرق پڑے گا۔بعض مردوں کو یہ شوق ہوتا ہے کہ وہ ہر دوسرے تیسرے مہینہ ایک نئے سوٹ میں ملبوس