خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 581 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 581

خطبات ناصر جلد دوم ۵۸۱ خطبه جمعه ۱۸ را پریل ۱۹۶۹ ء بعض انسانوں کی عبادتیں یا یوں کہنا چاہیے کہ ہر انسان کی بعض عبادتیں زندگی کے بعض حصوں میں ایسی ہوتی ہیں جن کی اسے عادت نہیں پڑتی۔نفس اور عبادت میں ایک قسم کا جہاد شروع ہو جاتا ہے اور کبھی شستی ہو جاتی ہے تو انسان خطرے میں پڑ جاتا ہے لیکن پھر ایسی عادت پڑ جاتی ہے کہ انسان اس کے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔مثلاً الہی جماعتوں میں اخلاص میں ترقی کرنے والے ہزاروں ہمیں نظر آتے ہیں جو آگے ہی آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں اور اپنے نیک انجام کو پہنچتے ہیں لیکن اکا دُگا ایسا بھی نظر آتا ہے جو اخلاص میں ترقی کرتے کرتے بلند مقام پر پہنچ جانے کے بعد پھر وہاں سے واپس آنا شروع ہو جاتا ہے۔اَلْعِيَاذُ بِاللہ جو لوگ اپنے اندر یا اپنے ماحول میں یا اپنے بچوں میں اچھی عادتیں پیدا نہیں کرتے وہ بڑا خطرہ مول لے رہے ہوتے ہیں۔بچوں میں کسی نیک کام کی عادت پڑ جائے تو وہ بہت مفید ہوتی ہے۔مثلاً مسجد میں آنے کی عادت ہے میں نے ایسے بچے تو دیکھے ہیں جو چھوٹی عمر کی وجہ سے اور بعض دفعہ تربیت کی کمی کی وجہ سے مسجد میں آتے ہیں تو آداب مسجد کا خیال نہیں رکھتے لیکن مسجد میں آنے کی عادت بڑی اچھی ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ وہ بعد میں آداب مسجد کا خیال بھی رکھنے لگ جائیں گے لیکن اگر بد عادات پڑ جائیں تو نیک اعمال خطرہ میں پڑ جاتے ہیں۔نیک اعمال کے راستہ میں بدعادات روک بن جاتی ہیں ان کے نتیجہ میں غیر کے سامنے بھی جھکنا پڑتا ہے مثلاً بعض قو میں ہیں انہیں ایک خاص اقتصادی معیار کے، کی عادت پڑ جاتی ہے اور جب ان کا یہ معیار خطرہ میں ہوتا ہے تو وہ دوسری قوموں کے سامنے جھک جاتی ہیں وہ انہیں کہتی ہیں کہ ہمیں کچھ دوور نہ ہم مرے۔حالانکہ انہیں کوئی حقیقی خطرہ نہیں ہوتا صرف عادت کی وجہ سے وہ موت کا احساس پاتے ہیں۔میں اس کی ایک مثال دیتا ہوں اگر ہمارے ملک میں کپڑا درآمد کرنا بند کر دیا جائے تو ہمارے ملک کے شاید ۹۹ فیصدی شہری ایسے ہوں گے جن کو اس کا کوئی احساس ہی نہ ہوگا لیکن ایک فیصدی یا شاید ہزار میں سے ایک ایسا بھی ہو گا جو شور مچانا شروع کر دے گا کہ ہم مارے گئے ہم مارے گئے کیونکہ ان کو ہر دوسرے مہینہ نیا سوٹ اور وہ بھی دو تین سو روپے فی گز والے کپڑے کا پہنے کی عادت ہوتی ہے اور یہ عادت غیروں کے سامنے جھکنے پر مجبور کرتی ہے۔اگر کپڑا میتر آ جائے تو اس کے پہنے میں کوئی حرج نہیں