خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 552 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 552

خطبات ناصر جلد دوم ۵۵۲ خطبه جمعه ۲۸ / مارچ ۱۹۶۹ء اور خدام اور انصار اور دوسرے عہدہ داروں نے بھی اس کی طرف بہت توجہ دی اور اپنے ماحول میں قرآن کریم کے علوم کے سکھانے ، ان کے سمجھنے سمجھانے اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کی۔اللہ تعالیٰ نے ان کی کوششوں کو فضل سے نوازا اور بڑے خوش گن نتائج نکلے لیکن پھر بھی ہماری کوشش کا نتیجہ سو فیصدی نہیں نکلا یعنی ان تین سالوں میں ہر وہ شخص جو اپنی عمر اور سمجھ اور استعداد کے لحاظ سے قرآن کریم ناظرہ پڑھنا سیکھ سکتا تھا یا ترجمہ سیکھ سکتا تھا یا اس کی تفسیر کے بعض حصے سیکھ سکتا تھا اس نے ایسا نہیں کیا۔قرآن کریم ایک عظیم کتاب ہے اس میں اتنا حسن ہے کہ انسانی احساس اس کا احاطہ نہیں کر سکتا اور یہ مبالغہ نہیں کیونکہ یہ حسن اس قسم کا ہے کہ عقل احساس انسانی کو بھی حسن بخشتا ہے اور قرآن کریم میں اس قدر ٹور ہے کہ دنیا کی کوئی روشنی اس کے نور سے مقابلہ نہیں کر سکتی۔اس لئے نہیں کہ یہ ہماری خوش فہمی ہے بلکہ اس لئے کہ ہمارے رب نے یہ فرمایا ہے کہ سورج کو بھی نور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کے طفیل دیا گیا تو جو طفیلی انوار ہیں ان کا مقابلہ حقیقی انوار سے نہیں کیا جا سکتا۔پھر یہ کتاب احسان سے بھری ہوئی ہے دنیا کا کون سا فردِ بشر ہے جس پر قرآن کریم نے احسان نہیں کیا۔اگر مسلمان قرآن کریم پر پوری طرح عمل کرنے والے ہوں تو دنیا کے ہر فرد بشر کو اس کے احسان کی زنجیروں کے اندر جکڑ لیں۔ہماری اپنی سستی ہے۔احسان کرنے کی راہیں تو موجود ہیں احسان کا منبع تو موجود ہے احسان کی تعلیم اور ہدایت تو موجود ہے انسانی فطرت میں راہ احسان پر چلنے کی قوت اور استعداد تو موجود ہے۔ہم سستی کرتے ہیں اور جس حد تک سستی کرتے ہیں دنیا کو اس کے احسانوں سے محروم کر دیتے ہیں تو جہاں تک قرآنی تعلیم کا تعلق ہے قرآن کریم بنی نوع انسان پر اس قدر احسان کرتا ہے کہ دنیا میں ) کسی ماں کے بچہ نے اس قدر احسان کرنے والی کتاب پیش نہیں کی۔محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نہایت ارفع مقام ہی تھا کہ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس قسم کی ایک کامل اور احسان کرنے والی کتاب نازل کی۔آپ عالمین کے لئے رحمت بنے اور قرآنی تعلیم عالمین کے لئے احسان کا باعث بنی۔اس عظیم کتاب کی طرف توجہ نہ کرنا خود کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔قرآن کریم ہی ہماری زندگی اور روح ہے اگر قرآن کریم کی عطا کردہ زندگی