خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 501
خطبات ناصر جلد دوم ۵۰۱ خطبہ جمعہ ۱۴ فروری ۱۹۶۹ء کو بھی کثرت کے ساتھ پڑھیں اور وہ یہ ہے۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (البقرة : ۲۵۱) یہ دعا قرآن کریم میں روایٹا ہی بیان ہوئی ہے لیکن اللہ تعالیٰ ہی انبیاء علیہم السلام کو دعائیں سکھاتا رہا ہے اور جب ان کو قرآن کریم میں دو ہرایا گیا ہے تو اسی غرض سے دوہرایا گیا ہے کہ ایک مسلمان بھی ان دعاؤں کی طرف متوجہ ہو اور ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کو حاصل کرنے کی کوشش کرے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس دعا میں یہ سکھایا ہے کہ یہ دعا کیا کرو کہ اے خدا! ہمیں کمال صبر عطا کر اور ہمیں ثبات قدم بخش۔پاؤں میں کبھی لغزش نہ آئے اور وہ جو تیرے اور تیرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے منکر اور مخالف اور تیری توحید کے خلاف اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے خلاف منصوبے باندھنے والے اور سازشیں کرنے والے ہیں ان کے مقابلہ میں خود ہماری مدد کو آتا کہ تیری توحید قائم ہوا ور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عظمت کو انسان کا دل تسلیم کرنے لگے اور وہ آپ کی برکات اور فیوض سے حصہ لے۔افرغ عَلَيْنَا صَبرًا - آفرغ کے اصل معنی تو یہ ہیں کہ جب کنوئیں سے ڈول میں پانی نکالا جائے تو اس کو اس طرح اُنڈیلا جائے کہ وہ خالی ہو جائے۔یعنی پورے کا پورا پانی ڈال دیا جائے۔پس اس ڈول کو خالی کر دینے کو افراغ کہتے ہیں۔أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبُرا کے یہ معنی ہوں گے کہ ہمیں صبر کا کمال عطا کر ہم پر سارے کا سارا صبر نازل کر۔قرآنی محاورہ میں صبر کے بہت سے معانی ہیں۔صبر کے ایک معنی یہ ہیں کہ اپنے نفس کو سختی کے ساتھ احکام شریعت کا پابند بنایا جائے اور ہوائے نفس اور نفسانی خواہشات کے خلاف کمال مجاہدہ کیا جائے۔یعنی اوامر کی اتباع اور پیروی اور تعمیل احکام اور جو نواہی ہیں ان سے پورے طور پر بچنا اور اپنے نفس کے خلاف مجاہدہ کرنا کہ وہ کہیں ہوائے نفس کا شکار نہ بن جائے اور یہ سب کچھ رضائے الہی کی خاطر کرنا۔تو دعا یہ ہے کہ اے خدا آفرغ عَلَيْنَا صَبُرا ہمیں اس رنگ میں کمال صبر عطا کر کہ ہم تیری