خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 485 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 485

خطبات ناصر جلد دوم ۴۸۵ خطبہ جمعہ ۳۱ / جنوری ۱۹۶۹ء ہم پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرض عائد کیا ہے کہ ہم اس کی محبت میں فنا ہو کر اس کی مخلوق کی خدمت میں لگے رہیں خطبه جمعه فرموده ۳۱ /جنوری ۱۹۶۹ء بمقام مسجد مبارک۔ربوہ تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔جماعت احمد یہ ایک مذہبی جماعت ہے جس کا سیاست سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہے اس حیثیت میں ہمارا پہلا اور آخری تعلق اپنے رب سے ہے۔غیر اللہ سے ہمارا جو بھی تعلق ہے وہ بالواسطہ ہے یعنی غیر اللہ سے سب تعلقات اللہ تعالیٰ کی وساطت سے اس کے حکم اور منشا سے اور اس کی رضا کے حصول کے لئے ہیں۔ایک مسلمان کی زندگی کا مقصد اور اس کی ساری زندگی کی جدوجہد کی غرض اور مقصد اپنے اللہ سے ایک زندہ اور مضبوط تعلق قائم کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ سے مضبوط روحانی تعلق پیدا کرنے کی جو راہ اسلام نے ہمیں سکھائی ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الفاظ میں اسلام اور دعائے فاتحہ ہے۔اسلام کے معنی ہیں کہ انسان اپنی سب خواہشات اور اپنے سب ارادوں اور اپنی تمام مرضیوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دے اس کا اپنا کچھ نہ رہے جس طرح انسان کی چھری کے سامنے بکرا اپنی گردن کو رکھ دیتا ہے۔اسی طرح انسان اللہ کی رضا کی چھری کے سامنے اپنے وجود کو رکھ دے اور اس رنگ میں اپنے پر موت وار دکرنے کی کوشش کرے کہ اللہ کی طرف سے اسے ایک نئی زندگی عطا ہو۔