خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 416
خطبات ناصر جلد دوم ۴۱۶ خطبہ جمعہ ۶ /دسمبر ۱۹۶۸ء نباہنے کی کماحقہ تو فیق عطا کرے۔انسان تو عاجز بندہ ہے میں نے بتایا تھا کہ رمضان کے مہینہ میں ہمیں اللہ تعالیٰ نے اس طرف متوجہ کیا ہے کہ ہم قرآن کریم کی تین اصولی برکات سے مستفید ہونے کی انتہائی کوشش کریں ایک تو احکامِ شریعت سامنے لائیں اور یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ہدایت کی ان راہوں پر چلنے کی اپنی طرف سے ہی ہمیں تو فیق عطا کرے کہ اس کی توفیق کے بغیر تو انسان کچھ نہیں کر سکتا اس کے متعلق مختصر آہی میں نے گزشتہ جمعہ کچھ بیان کیا تھا۔آج میں بَيِّنت مِنَ الهُدی کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں اللہ تعالیٰ قرآن کریم کی دوسری برکت جس کا ذکر اس نے اس آیت میں کیا ہے یہ بیان کی ہے کہ قرآن کریم صرف ہدایت کی راہ ہی نہیں بتا تا بلکہ حکمت بھی بتاتا ہے اور دلائل بھی دیتا ہے اور ان ہدایت کی راہوں سے جو چیزیں یا ماحول کے جو دباؤ ڈور لے جانے والے ہیں ان پر بھی روشنی ڈالتا ہے اور ہمیں ان غلط راہوں کے فساد پر آگاہ کرتا ہے اور جو نیکیاں ہیں ان کو بھی بیان کرتا ہوں اصولاً تو وہ ایک ہی ہیں لیکن حالات اور زمانہ کے لحاظ سے عمل صالح بھی بدلتے رہتے ہیں مثلاً جس وقت منکرِ اسلام نے تلوار سے اسلام کو مٹانا چاہا اس وقت ایک مسلمان کی ذمہ داریاں کچھ اور تھیں اور جب اس میں نا کام ہو کر ہر قسم کے دجل کے حربوں کو اسلام کے خلاف استعمال کیا گیا تو اسی وقت ایک مسلمان کی ذمہ داریاں پہلی ذمہ داریوں سے مختلف ہو گئیں گو اصولی طور پر ان کی ایک ہی ذمہ داری رہی کہ اپنا سب کچھ قربان کر کے اسلام کا دفاع اور اسلام کو غالب کرنے کی کوشش کرنا ہے اور یہ اصولی ذمہ واری ہے لیکن ایک زمانہ میں اس اصولی ذمہ واری کی کچھ اور شکل تھی اور دوسرے زمانہ میں اس اصولی ذمہ واری کی شکل کچھ اور بن گئی۔غرض قرآن کریم نے اپنے احکام کی حکمت اور دلائل بیان کئے قرآن کریم کے اسی فقرہ یا اسی حصہ آیت کی تفسیر کرتے ہوئے اور اس کے معنی بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " قرآن کریم جو تعلیم دیتا ہے اس کی صداقت کی وجوہات پہلے دکھلا لیتا ہے اور ہر ایک مطلب اور مدعا کو حُجج اور براہین سے ثابت کرتا ہے اور ہر یک اصول کی حقیت پر دلائل واضح بیان کر کے مرتبہ یقین کامل اور معرفت تام تک پہنچاتا ہے اور جو جو خرابیاں اور