خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 414
خطبات ناصر جلد دوم ۴۱۴ خطبه جمعه ۲۹ نومبر ۱۹۶۸ء وہاں لیٹے ہوئے تھے یہ باہر سے آنے والوں کی قربانی ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی یہ شان بھی ہمیں نظر آتی ہے کہ عام حالات میں اس تعداد کا چوتھا حصہ بھی اس کمرہ میں نہیں سوسکتا تھا پتہ نہیں اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس کمرہ کو بڑا کر دیتے ہیں یا جسموں کو نقصان پہنچائے بغیر انہیں برکتوں سے بھر کر وقتی طور پر سکیٹر دیتے ہیں۔غرض باہر سے آنے والے بھی عشق اور فدائیت کا نمونہ پیش کر رہے ہوتے ہیں اور یہاں کے مکین بھی عشق اور فدائیت کا نمونہ پیش کر رہے ہوتے ہیں لیکن اس عشق اور فدائیت کے جوش میں اس بات کو بھی یا درکھنا چاہیے کہ صرف سرا یعنی خفیہ طور پر ہی قربانی پیش کرنے کا حکم نہیں بلکہ علانیہ طور پر قربانی دینے کا حکم بھی ہے پس اگر آپ کے پاس گنجائش ہو خواہ ایک غسل خانہ ہی کی کیوں نہ ہو تو ثواب کی خاطر نظام سلسلہ کو وہ غسل خانہ ہی دے دیں یا ایک کمرہ یا دو کمرے جتنی گنجائش ہو دے دیں تا کہ آپ سارے کے سارے انعامات کے وارث ہوں۔خدا کرے کہ ہم خدا تعالیٰ کے سب انعاموں کے ہمیشہ ہی وارث بنتے رہیں۔روزنامه الفضل ربوه ۱۱ار دسمبر ۱۹۶۸ء صفحه ۲ تا ۵)