خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 389
خطبات ناصر جلد دوم ۳۸۹ خطبه جمعه ۸ / نومبر ۱۹۶۸ء ہیں اس لئے سہارا حاصل کرنے میں ناکام ہوتے ہیں۔بہت سے لوگ میرے پاس آجاتے ہیں اور کہتے ہیں فلاں شخص کے پاس ہماری سفارش کر دیں اس شخص کا آپ کے ساتھ تعلق ہے اور میں اس کے نام سے واقف بھی نہیں ہوتا پس ناقص علم کے نتیجہ میں سہارا لینے والا بھی غلط سہارا لے لیتا ہے اور سہارا دینے والا بھی غلط سہارا دے دیتا ہے حالانکہ سہارا حاصل کرنے کے لئے انسان کو ایسی ہستی کی ضرورت ہے جس سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہ ہو اور وہ ایسی ہستی ہو کہ اگر سہارا مانگنے والا اس سے غلط سہارا بھی مانگ لے تو وہ اسے صحیح سہارا دے دے یعنی گو بظاہر اس کی دعارڈ ہو جائے لیکن حقیقتادہ قبول ہو رہی ہو اور جو سہارا وہ دے جو مد دوہ کرے یا جو احسان وہ کرنا چاہے وہ کامل علم کے منبع سے پھوٹ رہا ہو اور انسان کے لئے کسی قسم کا خطرہ پیدا نہ ہو۔جب ایسا سہارا انسان کو مل جائے تو پھر اس کے اور اس کے مخالفوں بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اسلام اور اسلام کے منکروں کے درمیان جو فیصلہ ہو گا وہ حق کے ساتھ ہوگا اس لئے یہ دعا سکھائی کہ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَيْرُ الْفَتِحِينَ اے ہمارے رب ! تو علم کامل کا مالک ہے اس لئے ہم صرف تجھ پر بھروسہ اور توکل کرتے ہیں اور تجھ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ ہمارے اور ہماری انسانی برادری کے درمیان سچ کے مطابق فیصلہ کر دے چونکہ یہ زمانہ ایک عالمگیر اخوت اور برادری کا ہے اس لئے اس زمانہ کے لحاظ سے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ ہمارے اور ہماری انسانی برادری کے درمیان سچ کے مطابق فیصلہ کر دے کیونکہ تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے تیرا ہی حکم جاری ہے اور تیرے فیصلے ہی خیر و برکت والے ہیں تو علم کامل کا مالک ہے۔غرض وہ آٹھ کمزوریاں جو دنیوی سہاروں میں پائی جاتی تھیں اور جن کے نتیجہ میں ہم ان سہاروں کو وفا والے اور صحیح فائدہ پہنچانے والے سہارے قرار نہیں دے سکتے۔ان آٹھ کمزوریوں کے مقابلہ میں ہمارے رب اللہ میں (جہاں تک تو گل کا سوال ہے ) آٹھ ایسی بنیادی صفات پائی جاتی ہیں کہ اگر ہم اس پر کامل تو گل رکھیں ( اور اسی پر توکل رکھنا چاہیے ) تو ہمیں کامل سہار امل جاتا ہے پھر ہم بے سہارا نہیں رہتے پھر ہمارے بچے جو یتیم ہو جاتے ہیں وہ یتیم نہیں رہتے کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے یتامی کے حقوق کی اتنی حفاظت کی ہے کہ ماں باپ بھی اپنے بچوں کے حقوق کی