خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 365 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 365

خطبات ناصر جلد دوم خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۶۸ء دل پر بہت اثر ہوتا ہے اور بعض دفعہ مریض کی جان نکل جاتی ہے چونکہ میں وہاں کے حالات دیکھ چکا تھا اس لئے ٹیکہ لگاتے وقت میں نرس کی نگرانی کرتا تھا اور دیکھتا تھا کہ اس نے دوسری دوائی ملالی ہے یا نہیں۔ایک دفعہ اس نرس نے بڑی ہوشیاری سے دوسری دوائی کی ٹکیہ ایک طرف پھینک دی اور خالی ایک ہی دوائی کا ٹیکہ کرنے لگی میں نے دیکھ لیا میں نے اسے ڈانٹا اور کہا ڈاکٹر نے بڑی تاکید کی ہے کہ صرف اس ایک دوائی کا ٹیکہ لگانے سے جان کا خطرہ ہو سکتا ہے اور تم لا پرواہی کر رہی ہو اس قسم کی حرکات جان بوجھ کر کی جاتی ہیں۔اس دوائی کو پانی میں ابالنے پر صرف دومنٹ لگتے تھے اور وہ نرس گو پیڈ (Paid) تھی لیکن وہ یہ دو منٹ مریضہ کو دینے کے لئے تیار نہیں تھی بہر حال اپنی غربت کے باوجود یہاں کا ہسپتال بڑا اچھا ہے اور جو ہمارے کارکن ہیں ان کو اور غریبوں کو جہاں تک مجھے علم ہے ہم استعداد اور طاقت کے مطابق دوائی کی مدددیتے ہیں۔غرض یہاں بڑی سہولتیں ہیں اور جو لوگ یہاں شروع سے ہی آباد ہوئے ہیں جو تقویٰ کی بنیادوں پر اپنے مکانوں کی تعمیر کر کے آباد ہوئے تھے کیونکہ یہاں جنگل میں آباد ہو جانا کوئی معمولی قربانی نہیں تھی۔کسی زمانہ میں ایک ایک محلہ میں صرف ایک ایک یا دو دو مکان تھے اور بعض حصے اب بھی ایسے ہیں کہ لوگ شکایت کرتے ہیں کہ ہمارے مکان اکیلے ہیں اور چوری کا خطرہ رہتا ہے یا بعض دفعہ چوری ہو جاتی ہے ان کو تو میں تسلی دلاتا ہوں لیکن دل میں یہ سوچا کرتا ہوں کہ ایک وقت وہ بھی تھا جب یہاں ہر محلہ میں ایک ایک دو دو مکان تھے کیونکہ ایک ہی رات میں تو مکان بن نہیں جاتا اب اٹھارہ بیس سال میں جا کر یہ آبادی ہوئی ہے۔بہر حال جن لوگوں نے محلوں میں زمین لے کر اس پر مکان بنایا اور پھر اس میں رہائش اختیار کی شروع میں ظاہری لحاظ سے انہیں چوری کا خطرہ تھا لیکن اس خطرہ کو انہوں نے قبول کیا اور اس لئے قبول کیا کہ وہ جماعت احمدیہ کے مرکز کو مضبوط بنانا چاہتے تھے اور آباد رکھنا چاہتے تھے انہوں نے اس خطرہ کو اس لئے قبول کیا کہ ان کے دلوں میں یہ شدید خواہش تھی کہ وہ اپنے امام کے قرب میں رہیں اور جمعہ کے موقع پر اور دوسرے مواقع پر بھی وہ اس کی باتیں سنیں اور نصیحت حاصل کریں اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں کے حصول کے زیادہ سے زیادہ سامان اپنے لئے پیدا کریں۔