خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 307
خطبات ناصر جلد دوم ۳۰۷ خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۶۸ء محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل اس وجود میں دھڑکتا رہے اگر ایسا نہیں تو وہ کچھ بھی نہیں لیکن اس جماعت میں جس کی دعائیں قبول ہوتی ہیں بعض کم فہم ایسے بھی پیدا ہو جاتے ہیں جو سمجھتے ہیں کہ میری دعا قبول ہوئی میں اپنی ذات میں بہت بڑا انسان ہوں حالانکہ ان آیات سے پتہ لگتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سارے جسم کی دعائیں چاہیں جس طرح روح کو ہاتھ کی ضرورت ہے، آنکھوں کی ضرورت ہے، ناک کی ضرورت ہے، کانوں کی ضرورت ہے ان سے جسم کام لیتا ہے اسی طرح اس روحانی وجود میں بھی ایسے اعضا کی ضرورت ہے جو ہاتھ کی حیثیت رکھتے ہوں جو پاؤں کی حیثیت رکھتے ہوں یا کان، آنکھ، ناک اور دوسرے جوارح کی حیثیت رکھتے ہوں یا خون کی شریانوں کی حیثیت رکھتے ہوں یا جسم کی ہڈیوں کی حیثیت رکھتے ہوں یا اعصاب کی حیثیت رکھتے ہوں یا عضلہ یعنی مسل (Muscle) کی حیثیت رکھتے ہوں یا خون کی حیثیت رکھتے ہوں جس طرح ظاہری جسم میں بے شمار چیزیں پائی جاتی ہیں اسی طرح اس وجود میں بھی مختلف حصے ہیں اور وہ سب حصے مل کر جماعت بنتی ہے جس کے سردار، جس کی روح ، جس کا قلب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔اگر کوئی شخص یہ دعوی کرے کہ میرا وجود ایسا ہے کہ میں اس جسم کا حصہ نہ رہوں پھر بھی میری دعا قبول ہو گی تو اس کو ہم اس انگلی کی طرح مخاطب کر کے یہی کہیں گے کہ تم اس جسم سے کٹ جاؤ پھر دیکھو تمہاری دعائیں کس طرح قبول ہوتی ہیں؟ میں زمینداروں کے لئے ایک مثال دے دیتا ہوں آج کل چاول کی فصل ہے چاول کے کھیتوں میں بعض پودے ہمیں ایسے بھی نظر آتے ہیں جو عام کھیت سے زیادہ اونچے ہوتے ہیں اور زیادہ صحت مند نظر آتے ہیں اور غرور میں ان کا سر بلند ہوتا ہے جب سارا کھیت خدا تعالیٰ کے اس فضل کو دیکھ کر کہ اللہ تعالیٰ نے اسے باشمر بنایا ہے اس کی حمد میں جھک جاتا ہے یہاں تک کہ بعض بالیں زمین کو لگنے لگتی ہیں اس وقت یہ پودے جو ہمیں خال خال نظر آتے ہیں سرتا نے کھڑے ہوتے ہیں لیکن پتہ ہے وہ کیسے پودے ہیں یہ وہ پودے ہیں جو بے ثمر ہیں جن میں دانہ پڑتا ہی نہیں خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ یہ غرور تجھے راس نہیں آئے گا تجھے اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا تو جتنا چاہے غرور کر لے ہم تیرے سارے وجود کو بے شمر بنا دیں