خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 293
خطبات ناصر جلد دوم ۲۹۳ خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۶۸ء اور رحمت سے اس بیماری کو بھی دور کر دے گا میری طبیعت پر یہ اثر ہے کہ شکر کا نظام خراب ہو جانے کی بڑی وجہ یہ تھی ( وَاللهُ اَعْلَمُ ) کہ ایک تو مجھ پر نقرس کا حملہ ہوا تھا اور دوسرے پیٹ کی تکلیف تھی کیونکہ میں نے محسوس کیا ہے کہ جن دنوں ( ٹیسٹ کے دوران ) یورک ایسڈ سب سے کم ہوا اس وقت میری شکر بھی سب سے کم تھی اور اس وقت پیٹ کی تکلیف بھی نہیں تھی بعد میں ڈاکٹر صاحب نے نقرس کی دوائی کی مقدار کم کر دی یعنی دو گولیاں روزانہ کی بجائے ایک گولی کر دی تو یورک ایسڈ پھر کچھ بڑھ گیا اور پیٹ کی تکلیف بھی عود کر آئی تھی اس لئے شکر بھی کچھ زائد ہوگئی۔اب ڈاکٹر صاحب نے جو تشخیص کی ہے وہ یہ ہے کہ بیماری ذیا بیطس نہیں لیکن طبیعت کا رجحان اس طرف ہے اگر بے احتیاطی ہوئی تو خون میں شکر کا معیار بڑھ جائے گا اور بیماری کی شکل بن جائے گی اس لئے کھانے میں بڑی احتیاط کرنی چاہیے کچھ احتیاط تو وہ ہے جو کھانے کی مقدار کے متعلق ہے مثلاً ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ دو پہر کے کھانے پر ڈیڑھ چھٹانک۔رات کے کھانے پر ایک چھٹانک اور صبح ناشتہ پر ۲/۵ چھٹانک تک آٹا کھایا جائے اور یہ مقدار سب سے زیادہ ہے یعنی اس سے زیادہ نہ کھایا جائے اور اگر دوائی کھانی ہو تو اتنا ضرور کھایا جائے لیکن دوائی کی ضرورت نہیں پڑی میں نے سوچا جب اس ہدایت پر عمل کرنا ہے تو پھر پورا عمل کرنا چاہیے۔چنانچہ ایک تراز و منگوایا گیا اور اونس کے بٹے بھی ڈیڑھ چھٹانک ( تین اونس ) آٹا تو لا گیا اور اس کی چپاتیاں بنوائی گئیں۔ہمارا اپنا باور چی ساتھ تھا اس نے وہ چپاتیاں بنا ئیں دو آدمی مقرر کئے گئے کہ دیکھیں آٹا کی مقدار میں زیادتی نہ ہو جائے۔بے احتیاطی نہ ہو جائے۔باورچی نے اس آٹا سے چار چپاتیاں بنائیں اور میں سالہا سال سے دو سے زیادہ چپاتیاں کبھی کھاتا نہیں تھا بعض ڈاکٹروں نے جو احتیاطی غذا بتائی تھی اس سے نصف خوراک میرے معمول کے مطابق ہے اللہ تعالیٰ ہی فضل کرتا ہے اصل میں غذا ہضم ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو تو تھوڑی اور زیادہ غذا کا کوئی فرق نہیں پڑتا۔اب ڈاکٹروں نے ہدایت دی ہے کہ بیماری نے جو وزن کم کیا ہے صحت وہ وزن بڑھائے نہ۔بیماری کے دوران مہینہ سوا مہینہ میں میرا ۳۰، ۳۵ پونڈ وزن کم ہو گیا تھا اب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے