خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 266
خطبات ناصر جلد دوم ۲۶۶ خطبه جمعه ۳۰ اگست ۱۹۶۸ء ہوا ہے پچھلے چار پانچ دن میں بلڈ شوگر لیول ، خون میں جوشکر ہوتی ہے وہ سات یونٹ اور نیچے گر گئی ہے اور نارمل کی طرف آگئی ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَلِكَ - چند خطبات میں میں سورۃ احزاب کی اس آیت کی تفسیر کر رہا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کے متعلق اپنے غضب اور قہر کا فیصلہ کرے تو وہ اللہ کے اس غضب اور قہر سے بچ نہیں سکتا اور اگر اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے کسی کے متعلق رحمت کا فیصلہ کرے تو دنیا چاہے جتنا زور لگا لے مخالفتوں کی آندھیاں اور طوفان اٹھیں ایسے شخص کو دنیا کی کوئی طاقت خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے محروم نہیں کر سکتی لیکن وہ جو حکمتوں کا منبع اور سر چشمہ ہے اس کے ارادے اس کے اپنے وضع کردہ اصول کے مطابق ظاہر ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیسیوں ایسے سبق ہمیں دیئے ہیں کہ اگر ہم انہیں سمجھیں اور ان کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنی رحمت کے دروازے یقیناً کھولے گا۔یہ اس کا وعدہ ہے چند ایک جن کا ذکر سورۃ احزاب میں ہے ان کے متعلق میں ان خطبات میں کچھ بیان کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ احزاب میں رحمت کے دروازے کھلنے کا ایک اور طریق اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالُ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ کہ مومنوں میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اس وعدہ کو جو اللہ تعالیٰ سے کیا تھا سچا کر دکھایا ہے۔ان میں ایک وہ ہیں جن کا انجام بخیر ہو گیا اور ان کے صدق پر اللہ تعالیٰ کے فضل نے مہر لگا دی اور ایک وہ ہیں جو ابھی اس دار الابتلا میں تو ہیں لیکن ان کا عزم ان کی نیت اور ان کی کوشش اتنی پختہ ہے کہ اپنے اس عہد کو نباہنے کے لئے ان کے متعلق بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ انہوں نے اپنی نیت میں، اپنے عزم میں، اپنے عمل میں کوئی تبدیلی نہیں کی اس لئے اللہ تعالیٰ بھی ان کے ساتھ جس سلوک کا وعدہ کیا گیا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گا۔تو یہ عہد جس کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ہے جو سورۃ احزاب کی چوبیسویں آیت ہے یہ عہد اصولی طور پر سورۃ لیسین میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اَلَم اَعْهَدُ الَیكُم لِبَنِي آدَمَ أَنْ لَا تَعْبُدُوا الشَّيطن إنه لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ - (يس: ٦١ ) کہ اے آدم کی اولا د کیا میں نے تم کو یہ تاکیدی حکم نہیں دیا اور کیا تم نے مجھ سے یہ عہد ج