خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 250
خطبات ناصر جلد دوم ۲۵۰ خطبہ جمعہ ۱۶ راگست ۱۹۶۸ء لوٹنے کی کوشش کرو تو جس طرح میں تمہیں جلا سکتا ہوں اسی طرح چلا بھی سکتا ہوں اپنی قدرت کے ساتھ زندہ بھی کر سکتا ہوں لیکن بعض دفعہ وہ بالکل ہلاک کر دیتی ہے اور دوسری زندگی میں بھی جہنم اس کو نصیب ہوتی ہے تو یہ معمولی چیز نہیں خدا کا ناراض ہو جانا ہماری زندگی میں سب سے بڑی بدقسمتی اور محرومی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے تھوڑے کو بھی بعض دفعہ قبول کر لیتا ہے اور پیار کی نگاہ ڈالنے لگ جاتا ہے اس لئے کسی قسم کا فخر درست نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا تعالیٰ کی دین اور عطا کے متعلق بعض باتیں بیان فرما ئیں اور ہر ایک کے بعد یہ فرمایا کہ لا فَخْر تو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جیسا پاک وجود جن کے نہ صرف یہ کہ گناہ معاف ہوئے یعنی جو بشری کمزوریاں تھیں وہ ڈھانک دی گئیں استغفار کے نتیجہ میں۔اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ جن کو ہم بشری کمزوریاں کہتے ہیں ان کے اظہار کا امکان بھی باقی نہیں رہا بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ بھی کیا کہ جو تیرے متعلق دوسروں نے گناہ کئے ہیں ایک وقت میں ہم ان کی معافی کا سامان بھی پیدا کر دیں گے جیسا کہ مکہ والوں نے کتنا دکھ آپ کو پہنچایا تھا کتنے گناہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف انہوں نے کئے ہوئے تھے اسی وعدہ کے مطابق لا تثریب عَلَيْكُمُ کا ایک حسین اور بڑا فرحت بخشنے والا پیغام انہوں نے سنا۔آپ بھی لا فخر ہی کا نعرہ لگاتے رہے ہمارا کلمہ ہے اس میں عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ میں عبد کو پہلے رکھا گیا اس واسطے کہ ہم میں سے کوئی جن کی آپ کے مقابلہ میں حیثیت ہی کوئی نہیں یہ نہ سمجھنے لگ جائے کہ میری کوئی اندرونی خوبی ایسی ہے کہ مجھے لا فَخْرَ کہنے کی ضرورت نہیں مجھے عبودیت کا جامہ پہنے رکھنے کی ضرورت نہیں میں سینہ تان کر فخر سے کہ سکتا ہوں کہ میرے اندر یہ خوبیاں ہیں میرے اندر یہ خوبیاں ہیں۔جس طرح قرآن مجید میں بعض لوگوں کے متعلق آیا ہے کہ جب دنیوی انعام ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہمارے اندر اپنے نفس کی ایسی خوبیاں ہیں کہ ہمارا رب بھی مجبور ہو گیا ہے کہ ہماری عزت اور احترام کرے یہ ایک احمقانہ خیال ہے لیکن اس دنیا میں ایسے احمق بھی پائے جاتے ہیں اس حماقت سے بچتے رہنا چاہیے اور عاجزانہ راہوں کو اختیار کرنا چاہیے اور خدا سے علاوہ تدبیر اور اعمال صالحہ کی کوششوں کے یہ دعا بھی کرتے رہنا چاہیے کہ