خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 249 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 249

خطبات ناصر جلد دوم ۲۴۹ خطبہ جمعہ ۱۶ راگست ۱۹۶۸ء بشاشت اس میں پیدا ہو جائے تو پھر انسان خدا تعالیٰ کی نعمتوں کا وارث بن جاتا ہے۔اس میں یہ مضمون بھی پایا جاتا ہے کہ تمام بد رسوم اور بدعات سے اجتناب کیا جائے لیکن اس مفہوم کو میں دوسری آیت کے ساتھ ملا کر کیونکہ اس کے ساتھ بھی اس کا تعلق ہے بیان کروں گا۔آج مختصر سا خطبہ اس لئے دینا چاہتا ہوں کہ ابھی تین بجے کے قریب ڈاکٹر نے آکر ٹیسٹ کے لئے میرا خون لینا ہے وہ ابھی چیک کر رہے ہیں اور ٹیسٹ لے رہے ہیں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے خدا تعالیٰ کے فضل سے دوائی کے بغیر پہلے کی نسبت بہت افاقہ ہے شافی مطلق تو خدا تعالیٰ کی ذات ہے اور اس کی صفت شفا کو جوش میں لانے کے لئے قربانی اور ایثار اور صدقہ خیرات اور دعاؤں کی ضرورت ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ ان چیزوں کی مجھے توفیق اور سمجھ دیتا ہے میں اپنے طور پر لگا ہوا ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ دوست بھی دعاؤں کے ساتھ میری مدد کریں گے اور خدا کے حضور جھک کر عاجزانہ درخواست کریں گے کہ اے ہمارے پیارے ربّ جو بے شمار صفاتِ حسنہ کا مالک اور شافی بھی ہے ہم میں سے ایک شخص پر تو نے خلافت کی بہت سی ذمہ داریاں عائد کر دی ہیں ان کو نبھانے کے لئے اچھی صحت کی بھی ضرورت ہے جہاں اور بہت سی چیزوں کی ضرورت ہے تو ہمارے اس بھائی کو اچھی صحت دے تا کہ وہ صحیح طور پر ذمہ داریاں نبھا سکے۔یہ دنیا اور اس کی زندگی میں دراصل کوئی مزہ نہیں ہے۔یہ فکر رہتا ہے کہ جب تک انسان زندہ رہے ایسے رنگ میں اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو نبھائے کہ وہ خوش رہے اور ناراض کبھی نہ ہو۔آپ اپنے لئے بھی دعا کیا کریں ایک دعا جو میں کثرت سے کرتا ہوں وہ یہی ہے کہ اے خدا ہمیشہ رضا کی نگاہ ہم پر پڑتی رہے اور کبھی غضب کی نگاہ ہم پر نہ پڑے کیونکہ انسان ہے کیا چیز۔ایک لحظہ مغضب اور قہر کی نگاہ کو برداشت نہیں کر سکتا بعض دفعہ خدا کے غضب اور اس کے قہر کی نگاہ اس دنیا میں پڑتی ہے جیسے بجلی بعض دفعہ گرتی ہے اور اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے اور ظاہر ٹھیک رہتا ہے بعض انسانوں پر بھی خدا کے قہر اور غضب کی نگاہ پڑتی ہے وہ اندر سے کھوکھلے ہو جاتے ہیں بظاہر چلتے پھرتے اور بعض لوگوں کے نزدیک شاید دیندار بھی ہوں ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ دراصل یہ موقع دینا چاہتا ہے کہ اگر تو بہ اور استغفار کرو اور اگر میرے بتلائے ہوئے راہوں پر چلو اور میری طرف واپس