خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 246
خطبات ناصر جلد دوم ۲۴۶ خطبہ جمعہ ۱۶ راگست ۱۹۶۸ ء پچھلے جمعہ میں نے سورہ احزاب کی ۱۸ ویں آیت کے متعلق بتایا تھا کہ اس میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کسی فرد یا جماعت کے متعلق رحمت سے محرومی کا فیصلہ ہو تو اس رحمت سے محرومی سے کوئی دوسری ایجنسی کوئی دوسری طاقت اس شخص یا اس جماعت کو بچا نہیں سکتی اور اگر اللہ تعالیٰ کسی کے متعلق یہ فیصلہ کرے کہ وہ اپنی رحمت سے اسے نوازے گا تو خدا کی اس رحمت سے کوئی طاقت ایسے شخص کو محروم نہیں کر سکتی۔رحمت کا وارث بنا بھی اللہ تعالیٰ کے منشا اور اس کی رحمت پر ہی منحصر ہے اور رحمت سے محرومی بھی ان وجوہات کی بنا پر ہوتی ہے جن کا ذکر قرآن عظیم نے کیا ہے اور جن بد راہوں پر چل کر انسان خود کو خدا کے غضب کا وارث بنالیتا ہے اور اس کی رحمت سے محروم ہو جاتا ہے۔پہلے حصے کے متعلق میں ربوہ میں مختصراً چند باتیں بیان کر چکا ہوں جو دوسرا حصہ ہے یعنی رحمت کا وارث بننے کے متعلق اس سلسلہ میں میں نے ایک بات پچھلے خطبہ میں بیان کی تھی جس کا ذکر سورۃ احزاب میں ہی ہے۔ایک اور عمل صالح جو خدا تعالیٰ کے فضل سے انسان کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وارث بنا دیتا ہے جس کے متعلق خدا کا وعدہ ہے کہ اگر خلوص نیت کے ساتھ محض رضائے الہی کی خاطر بد نیتی اور ریا کے بغیر یہ کام کرو گے تو میں اپنی رحمت سے تمہیں نوازوں گا وہ سورہ احزاب کی آیت ۵۷ میں بیان ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ إِنَّ اللهَ وَ مَلَكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ (الاحزاب : ۵۷) اس آیہ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس طرف متوجہ کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے ایک عظیم بندے تھے ایک نہایت ارفع مقام پر پہنچنے والے عبد تھے ، عبد تو تھے لیکن دنیا کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت جب جوش میں آئی تو اس جوش نے یہ تقاضا کیا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا ایک وجود پیدا کرے اور دنیا کی اصلاح اور دنیا پر رحمتوں کے دروازے کھولنے کے سامان پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبی اکرم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کی بارشوں کا ایک سلسلہ نازل ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اس کام پر لگایا ہے کہ وہ آپ کی بلندی درجات کے لئے دعائیں کرتے رہیں اور ان مقاصد کے حصول کے لئے دعائیں کرتے