خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 8
خطبات ناصر جلد دوم خطبه جمعه ۵/جنوری ۱۹۶۸ء ایام میں ربوہ میں مخش کلامی سے پر ہیز کیا جائے کسی قسم کی مخش کلامی اس موقع پر خصوصاً جائز نہیں کبھی بھی جائز نہیں لیکن اجتماع کے موقع پر خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔گاؤں میں رہنے والے بہت سے دیہاتی بہت ہی مہذب ہیں۔ان کی زبانیں پاک اور صاف ہوتی ہیں اور کوئی گندی بات ان کی یا ان کے بچوں کی زبان پر نہیں آتی۔یہی حال شہر میں بسنے والے احمدیوں کا ہے۔لیکن ایک طبقہ جس کی صحیح تربیت نہیں ہوتی کیونکہ ہم تو ہمیشہ ہر آن بڑھنے والی قوم ہیں نئے آدمی داخل ہوتے رہتے ہیں ایک وقت تک ان کی پوری تربیت ابھی نہیں ہوئی ہوتی ان کو گند بولنے کی عادت پڑی ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ ہی جاتی ہے۔اس عادت کو دور کرنے کا یہ بڑا اچھا موقع ہے خاص طور پر وہ خیال رکھیں کہ ان کی زبانیں اور ان کے رشتہ داروں اور بچوں کی زبانیں پاک رہیں تا سارا سال ہی یہ عادت ان کی قائم رہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث ہوں۔ایسے اجتماعوں پر چھوٹی چھوٹی باتوں پر بعض دفعہ اختلاف ہو جاتا ہے مگر کسی قسم کا جدال نہیں ہونا چاہیے۔لڑائی جھگڑے سے پورا پر ہیز کرنا چاہیے اور اگر جائز یا ناجائز بات کوئی ایسی دیکھیں جس سے طبیعت میں اشتعال پیدا ہونے کا خطرہ ہو تو اپنے نفسوں پر قابورکھیں چھوٹی چھوٹی قربانیاں دے کر اپنی عادت کی یا نفس کے جوش کی ، ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کر لیں تو اس سے زیادہ سستا سودا اور کیا ہوسکتا ہے۔میرے بچپن کا ایک واقعہ ہے میں بہت چھوٹا تھا اس وقت لیکن ابھی تک وہ واقعہ مجھے پیارا لگتا ہے میں مسجد اقصیٰ میں عشاء کی نماز کے لئے جایا کرتا تھا کیونکہ عشاء کی نماز مسجد مبارک میں بہت دیر سے ہوتی تھی اور میں مدرسہ احمدیہ میں نیا نیا داخل ہوا تھا۔پڑھائی کی طرف توجہ دینے اور نیند پوری لینے کی خاطر حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا مجھے فرماتی تھیں کہ تم مسجد اقصیٰ میں جا کر نماز پڑھ آیا کرو۔ورلی سیڑھیاں (آپ میں سے بہت سے تو جانتے نہیں ) یعنی مسجد مبارک کی وہ سیڑھیاں جو اس دروازہ کے ساتھ ہیں۔جو دار مسیح کے اندر جانے والا دروازہ ہے وہاں سے میں اُتر تاوہ گلی بڑی اندھیری تھی۔اب تو شاید وہاں بجلی لگ گئی ہوگی۔اس زمانہ میں بجلی نہیں تھی۔ایک دن میں نیچے اُتر ا نماز کے لئے تو عین اس وقت مدرسہ احمدیہ کے طلبا کی لائن نماز