خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 7
خطبات ناصر جلد دوم اور اپنے رب کے حضور پہنچ چکے ہیں۔خطبہ جمعہ ۵/جنوری ۱۹۶۸ء (۷) ساتویں بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ فرمائی کہ صرف یہی فوائد اس جلسہ کے نہیں جو میں نے یہاں بیان کئے ہیں بلکہ ان کے علاوہ بہت سے روحانی فوائد ایسے ہیں جن کا میں نے ذکر نہیں کیا اور بہت سے ایسے ہیں جو اس وقت ہمارے فائدے کے نہیں لیکن آئندہ ان سے استفادہ ہو سکتا ہے۔آپ فرماتے ہیں اور اپنے اپنے وقت پر وہ ظاہر ہوں گے اور روحانی فوائد اور منافع بڑی کثرت سے ہیں یعنی صرف یہی چند ایک نہیں جن کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ (اس کی دلیل آپ نے یہ دی) یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلاء کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔تو جس اجتماع کی بنیا د خالص تائید حق اور اعلاء کلمہ اسلام پر ہو اس میں دو ایک یا پانچ سات نہیں بلکہ بے شمار روحانی فوائد ہوتے ہیں اور ہر روحانی فائدہ سے استفادہ کرنا مومن کا فرض ہے اور (۸) آٹھویں بات ان دو اقتباسات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ بیان فرمائی ہے۔اپنے متعلق اور میں سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نیابت میں خلیفہ وقت امام وقت کا بھی فرض ہے جو اسے یاد دلایا گیا ہے نیز جماعت کو بھی بتایا گیا کہ ایک روحانی فائدہ یہ بھی ہے کہ خلیفہ وقت کا فرض ہوگا کہ احباب جماعت کی خشکی اور اجنبیت اور نفاق کو درمیان سے اٹھا دینے کے لئے بدرگاہ حضرت جلّ شانہ کوشش کرے۔“ تو ان ایام میں امام وقت خاص طور پر یہ دعائیں کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ احباب جماعت کی خشکی اور اجنبیت کو دور کرے اور ان کی اخوت اور محبت کو زیادہ کرے اور بشاشت ایمانی ہر آن اور ہر وقت بڑھتی چلی جائے اور نفاق کا کوئی پہلو بھی ان کے اندر باقی نہ رہے اور جو منافق ہیں اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں ان کے شر سے محفوظ رکھے۔تو یہ آٹھ باتیں ہیں جن کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان دو چھوٹے سے اقتباسات میں کیا ہے جن کی طرف میں اپنے دوستوں کو تو جہ دلا رہا ہوں۔اس کے علاوہ جماعت کا یہ بھی فرض ہے کہ خاص طور پر اس بات کا خیال رکھیں کہ جلسہ کے