خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1035
خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۳۵ خطبہ جمعہ ۲۶ دسمبر ۱۹۶۹ء خدا تعالیٰ نے ان کی نگہداشت تمہارے سپرد کی ہے عورت کمزور وجود ہوتی ہے اور اپنے حقوق کی خود حفاظت نہیں کر سکتی۔تم نے جب ان کے ساتھ شادی کی تھی تو تم نے خدا تعالیٰ کو ان کے حقوق کا ضامن بنا یا تھا اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات کا ضامن ٹھہراتا ہے کہ اس کی اس ضمانت کی وجہ سے جس کا واسطہ دے کر تم نے یہ ذمہ داری لی تھی عورتوں کے حقوق کی پوری طرح نگہداشت کرنا، ان سے حسن سلوک کرنا ، ان کی کمزوریوں کو وجہ طعن نہ بنانا بلکہ اس وجہ سے انہیں رحم اور حسن سلوک کا مقام ٹھہرانا۔پھر دنیا میں ہمیشہ ہی انسان جنگیں بھی لڑتے آئے ہیں کبھی جائز اور کبھی ناجائز۔جائز جنگ کے نتیجہ میں بھی جو جنگی قیدی مسلمان کے ہاتھ میں تھے ان کے متعلق ارشاد فرماتے ہوئے ایک مسلمان سے کہا کہ تمہارے ہاتھوں میں ابھی کچھ جنگی قیدی بھی باقی ہیں میں تمہیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ ان کو وہی کھلا نا جو تم خود کھاتے ہو اور ان کو وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو کیونکہ وہ بھی خدا کے بندے ہیں اور ان کو تکلیف دینا کسی صورت میں بھی جائز نہیں۔اے لوگو! جو کچھ میں تم سے کہتا ہوں تم اچھی طرح اس کو یا درکھو۔پھر انسانی شرف کو اصولی طور پر قائم کرنے کے لئے یہ اعلان کیا کہ تم تمام انسان خواہ کسی قوم اور حیثیت کے ہوانسان ہونے کے لحاظ سے ایک درجہ رکھتے ہو اور پھر یہ کہتے ہوئے آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو اس طرح ملا دیا اور کہا جس طرح ان دونوں ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں برابر ہیں اسی طرح تم بنی نوع انسان (مسلمان نہیں) آپس میں برابر ہو۔تمہیں ایک دوسرے پر فضیلت اور درجہ ظاہر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔میں نے بتایا تھا کہ زمانہ اور مکان اور مخلوق کی حرمتوں کو اللہ تعالیٰ نے قائم کر کے ہر اس چیز کو، ہر اس مخلوق کو اور ہر اس انسان کو جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے حکم دیا اور اس کے حق کو قائم کیا ہے شعائر اللہ بنادیا یعنی اس بات کی علامت بنا دیا کہ تم مسلمان اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہو یا حکم عدولی کرتے ہوئے اس کی اطاعت سے باہر نکلتے ہو اور اس کے غضب کے دائرہ کے اندر داخل ہوتے ہو۔آپ نے فرمایا جس طرح یہ دن مقدس ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جان اور اس