خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1017 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1017

خطبات ناصر جلد دوم 1+12 خطبہ جمعہ ۵/ دسمبر ۱۹۶۹ء لئے مقرر کی گئی ہیں انہیں ان کے انتہائی کمال تک پہنچاؤ۔میں نے بتایا تھا کہ رمضان کا مہینہ صرف روزہ رکھنے کا مہینہ نہیں ہے بلکہ پانچ بنیادی عبادات اس ماہ میں جمع کر دی گئی ہیں اور یہ پانچوں قسم کی عبادات تمام حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی قائم مقام ہوتی ہیں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر تم خلوص نیت کے ساتھ اور اگر تم آفات نفس کو سمجھتے ہوئے اور اپنے نفس کو مغلوب کر کے اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اس کو قربان کر کے ان عبادات کو بجالاتے ہوئے رمضان کے آخر میں پہنچ جاؤ گے یعنی اپنی تدبیر کو کمال تک پہنچا دو گے تو پھر تمہاری اس تدبیر کے نتیجہ اور دعا کے کمال کے وقت تم یہ امید رکھو کہ خدا تعالیٰ آسمان سے اپنی قدرت کی تاروں کو ہلائے گا اور تمہیں روحانی بصیرت اور بصارت عطا کرے گا تا کہ تم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض سے مستفیض ہو سکو۔یہ وہ لیلۃ القدر ہے جس کا ذکر احادیث میں آتا ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں اسے تلاش کرو اللہ تعالیٰ جس پر اپنا فضل کرتا ہے۔اسے دعا کی ایک خاص کیفیتِ دعارات کے وقت عطا کرتا ہے بعض دفعہ دن کو بھی کہ جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کا فضل جذب ہوتا اور اس کے لئے تقدیر کی تاریں ہلا دی جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ جو قادر و توانا ہے جو ہر قسم کی طاقت اور قوت کا سرچشمہ ہے وہ ایسے انسان کے لئے یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اس کا یہ بندہ اس کے اس طاقت اور قوت کے سرچشمے سے سیراب ہو اور اسے اس بات کی قوت عطا ہو کہ وہ آئندہ نیکیوں میں ترقی کرتا چلا جائے نہ صرف اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہی ہوتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اسے اس بات کی جزا بھی دیتا ہے کہ اس نے محض خدا کی خاطر ہر قسم کی قربانیاں دیں اور عبادتیں بجالائیں۔قدرت کے معنوں میں یہ ہر دو معنی پائے جاتے ہیں یعنی آنقدر کے معنوں میں قوت اور طاقت دونوں کا مفہوم پایا جاتا ہے۔لَيْلَةُ الْقَدْرِ جو انفرادی حیثیت رکھتی ہے ( گو یہ دوسرے معنوں میں بھی استعمال ہوتی ہے جس کا دوسروں کے ساتھ بھی تعلق ہوتا ہے جسے میں ایک اور رنگ میں بیان کر چکا ہوں ) بہر حال انفرادی لیلة القدر میں جو قدر کا مفہوم ہے یہ دو معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور بھی معنی ہیں اس وقت میں ان دو کو لے رہا ہوں ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو اپنی طرف