خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1016 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1016

خطبات ناصر جلد دوم 1+17 خطبہ جمعہ ۵/ دسمبر ۱۹۶۹ء دور کرنے کی قابلیت اور طاقت رکھنے والا اور جس کا زمانہ قیامت تک پھیلا ہوا ہے۔لیکن فائدہ انہوں نے ہی اُٹھایا جن کو اللہ کی توفیق سے دیکھنے کی آنکھیں ملیں مکہ میں اس نور کا نزول شروع ہوا اور مکہ اپنے اندھیروں میں دوسروں کو بھی مات کر رہا تھا۔مکہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی پیدا ہوئے جنہیں ان کے پیدا کرنے والے رب نے روحانی آنکھ دے رکھی تھی اور جنہوں نے اس نور سے فائدہ اٹھایا اور اسی مکہ میں اسی شہر میں جس کے ذرے ذرے کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نے منور کر دیا تھا ابو جہل بھی پیدا ہوا نور تو موجود تھا لیکن ابو جہل ایسی آنکھ سے محروم رہا جو روحانی طور پر دیکھ سکتی ہے اس لئے وہ محمد می نور کی تابانی کے باوجود اس سے فائدہ اٹھانے سے محروم رہا۔پس معلوم ہوا کہ باوجود اس کے کہ جس انتہائی فساد اور گناہ اور اللہ تعالیٰ سے دُوری کے زمانہ میں جو محمدی نورا اپنے کمال کے ساتھ نازل ہوا ، وہ تو نازل ہوا مگر اس کے باوجود وہی انسان اس سے فائدہ اُٹھا سکتا ہے جس کے حق میں بھی ( علاوہ دوسری تقدیر کے جس کا یہاں ذکر ہے ) کہ آسمان سے ایک نور نازل ہوتا ہے جس کے بعد اور تقدیر اس فرد واحد کے حق میں آسمانوں سے جاری کی جائے اور اس شخص کو روحانی آنکھیں عطا کی جائیں تا کہ وہ اس آسمانی نور سے فائدہ اٹھا سکے جب تک یہ تقدیر نازل نہیں ہوتی کوئی فرد واحد لیلۃ القدر سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔اللہ تعالیٰ کے ان انوار سے اور ان برکات سے اور ان رحمتوں سے جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی طرف لے کر آئے ان سے وہ فائدہ نہیں اٹھا سکے گا ان سے وہ محروم رہے گا یہ محرومی صرف اس وقت دُور ہوسکتی ہے جب اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرتے ہوئے اپنے قادرا نہ تصرف سے اپنے بندے کے حق میں ایک نور نازل فرمائے یعنی اسے روحانی طور پر آنکھیں عطا ہوں کیونکہ جس نور میں انسان نے اپنی ان آنکھوں سے کام لینا ہے وہ تو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور ہے چنانچہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اگر تم ان روحانی انوار اور برکات اور فیوض اور رحمتوں سے حصہ لینا چاہتے ہو جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے آسمان سے نازل کیا ہے تو تمہارے لئے یہ بات بڑی ہی ضروری ہے کہ تم اپنی تدبیر سے ان عبادات کو جو تمہارے