خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 1012 of 1058

خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 1012

خطبات ناصر جلد دوم ۱۰۱۲ خطبہ جمعہ ۵/ دسمبر ۱۹۶۹ء کے متعلق حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اسے ماہِ رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو اور ایک وہ لَیلَةُ الْقَدْرِ ہے کہ جو ہر انسان کو میسر آسکتی ہے مگر اس وقت جب اس کو ایک صاف حالت روحانی میسر آجائے یعنی غیر سے تعلق کلی طور پر منقطع ہو کر اس کی روح آستانہ الہیہ پر بہہ نکلے۔یہ صافی وقت جس میں انسان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حقیقی معنوں میں سجدہ ریز ہونے کی تو فیق ملتی ہے یہی دراصل اس کے لئے قدر کی رات بن جاتی ہے۔،، لَيْلَةُ الْقَدْرِ کے ایک معنے لَيْلَةٌ کے ہیں اور دوسرے معنے قدر کے ہیں۔لیکة عربی میں بطور مؤنث يَوْم “ کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جس طرح یوم کے معنے محض دن کے نہیں بلکہ زمانہ کے بھی ہیں اسی طرح لیلة کے معنے محض رات کے نہیں بلکہ ان میں زمانے کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے جس طرح یوم کے معنے ایک خاص زمانے کے بھی ہوتے ہیں اسی طرح لیلة یعنی رات کے معنوں میں بھی ایک خاص قسم کے زمانہ کا مفہوم پایا جاتا ہے۔جب یوم کے لفظ سے زمانے کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے تو اس میں اللہ تعالیٰ کی عظیم قدرتوں اور عظمتوں اور اس کے جلال اور اس کی صفات کے مختلف جلوؤں کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے کہ اللہ نے زمین اور آسمان کو ستَّةِ أَيَّامٍ (هود: ۸) یعنی چھ زمانوں میں زمین اور آسمان کو پیدا کیا ہے یہاں یوم سے مراد وہ دن نہیں جو ہر روز ہم پر طلوع ہوتا ہے بلکہ ایک زمانہ مراد ہے اور ہر چیز کی پیدائش کے لئے ایک زمانہ مقدر ہوتا ہے مثلاً بچہ کی پیدائش کے لئے نو ماہ کا زمانہ ہوتا ہے۔اس عالمین کی یا اس کے اندر جو Galaxies ( کہکشاں ) ہیں ان کی پیدائش کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک بڑا لمبا زمانہ مقرر کر دیا ہے بعض سائنسدانوں کا یہ خیال ہے کہ ستاروں کے مختلف خاندان جو بے شمار ستاروں پر مشتمل ہوتے ہیں جن کو انگریزی میں Galaxy ( کہکشاں ) پر کہتے ہیں ان کا آپس میں ایسا تعلق ہے کہ ان ستاروں کا سارے کا سارا جمگھٹا اکٹھا ایک جہت کی طرف بھی حرکت کر رہا ہے اور ساتھ والی دائیں بائیں یا اوپر نیچے جو دوسری Galaxies ( کہکشاں ) ہیں وہ بھی ایک خاص جہت کی طرف حرکت کر رہی ہیں اور ان کا درمیانی فاصلہ آہستہ آہستہ