خطباتِ ناصر (جلد 2۔ 1968ء، 1969ء) — Page 998
خطبات ناصر جلد دوم ۹۹۸ خطبه جمعه ۲۸ نومبر ۱۹۶۹ء جس طرح اللہ تعالیٰ کی صفات اپنے بندوں اور اپنی مخلوق پر احسان پر احسان کئے جارہی ہیں۔کوئی لحظہ ایسا نہیں کہ مخلوق پر اس کے رب کا احسان جاری نہ ہو اسی طرح جب اس کا بندہ، اس کا بندہ بن جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق اس کی زندگی میں اسی طرح صفات باری کے جلوے دیکھتی ہے جس طرح کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے رب میں دیکھتی ہے اور اس وقت ہی انسان اس حکم کو صحیح طور پر بجالا سکتا ہے کہ وَافْعَلُوا الْخَيْر (الحج: ۷۸) نیکیاں اور بھلائی اور احسان کرتے چلے جاؤ۔انسان کی زندگی اللہ تعالیٰ کی صفات کے پر تو کے نیچے اسی کے فضل سے اس کی مخلوق کے لئے بھلائی ہی بھلائی بن کر رہ جائے یہ نقشہ ہے جو اس چھوٹی سی آیت میں کھینچا گیا ہے اور ہمیں بتایا گیا ہے کہ عبودیت تامہ کے حصول کے دو طریقوں اور عبودیت تامہ کے نتیجہ میں کس طرح ایک خیر اور بھلائی اور نیکی اور حسن سلوک اور احسانِ عظیم کا ایک عظیم دریا بہتا ہے اور اس کے ساتھ اگلی آیت وَ جَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ (الحج: ۷۹) میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ اس مقام کے حصول کے لئے محض محبت کافی نہیں بلکہ اس انتہائی محبت کی ضرورت ہے جو جہاد کے حق کو اور کوشش اور سعی کے حق کو پورا کرنے والی ہو اور محض اطاعت کافی نہیں بلکہ ایسی اطاعت کی ضرورت ہے جو اطاعت کا حق ادا کرنے والی ہو اور محض خیر پہنچانا ہی کافی نہیں بلکہ انتہائی طور پر خیر پہنچانے کی ضرورت ہے جس پر حق جہادہ صادق آئے۔اور اس اگلی آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم میری راہ میں عبودیت تامہ کے حصول کے بعد بنی نوع انسان سے اور مخلوق خدا سے عام طور پر محسن سلوک میں جو جہاد کا حق ہے کوشش اور سعی کا جو حق ہے وہ ادا کرو گے تو پھر میرے ساتھ تمہارا پختہ تعلق قائم ہو جائے گا اور تمہاری یہ زندگی ایک طرف اللہ تعالیٰ کو بڑی محبوب ہوگی اور دوسری طرف خدا تعالیٰ کی مخلوق تمہارے ساتھ محبت اور پیار کا تعلق رکھے گی اور اگر سارے بندے اس قسم کے ہو جائیں گے تو سارے معاشرہ کی اور تمام دنیوی تعلقات کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی محبت پر قائم ہوگی اور وہ معاشرہ بڑا ہی حسین معاشرہ ہو گا اور وہ تعلقات بڑے ہی حسین تعلقات ہوں گے اور بڑی ہی حسین زندگی ہوگی جو اس زمانہ میں اس زمانہ کے انسان گزاریں گے۔اس کے لئے جماعت احمد یہ پر فرض ہے