خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 976
خطبات ناصر جلد اول خطبہ جمعہ ۱۷؍نومبر ۱۹۶۷ء میں بشری اور فطرتی کمزوریاں ہیں اور میں اپنی ان بشری اور فطری کمزوریوں سے واقف ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اپنی ذات میں میرے اندر کوئی خوبی اور کمال نہیں۔لیکن اے میرے ربّ! تو نے میرے دل میں یہ خواہش پیدا کی ہے کہ میں تیرے قرب کو حاصل کروں اور تیری مدد کے بغیر میں تیرا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔تیرے قرب کے حصول کے لئے جس طاقت کی مجھے ضرورت ہے جس نور کی مجھے ضرورت ہے جس علم کی مجھے ضرورت ہے جس کمال کی مجھے ضرورت ہے وہ تو ہی دے تو مجھے مل سکتا ہے ورنہ نہیں مل سکتا۔پس اے میرے رب ! میں تیرے حضور عاجزی اور تضرع سے جھکتا ہوں اور تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں اور یہ چاہتا ہوں کہ تو میری بشری اور فطری کمزوریوں کو ڈھانک دے اور آسمانی نور سے مجھے منور کر دے اور قرآن کریم کی برکات سے مجھے حصہ دے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کی پیروی کے نتیجہ میں تیری جو محبت ایک انسان کو حاصل ہوسکتی ہے وہ محبت تو ہمیں عطا کر۔پس ہر وقت استغفار کی طرف ہر احمدی کو متوجہ رہنا چاہیے اور ہمیشہ اس کوشش میں رہنا چاہیے کہ تکبر اور خود بینی کا کوئی شائبہ بھی ہمارے نفسوں میں باقی نہ رہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔روزنامه الفضل ر بوه ۲۴ نومبر ۱۹۶۷ ، صفحه ۲ تا ۴) 谢谢您