خطباتِ ناصر (جلد 1 ۔1965ء تا 1967ء) — Page 944
خطبات ناصر جلد اوّل ۹۴۴ خطبه جمعه ۲۰ ا کتوبر ۱۹۶۷ء دوسری عالمگیر جنگ جس نے دوبارہ دنیا کا نقشہ بدل دیا ایسے اہم واقعات ہیں جو تاریخ انسانیت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔یہ سب واقعات اسی طرح ظہور میں آئے جس طرح کہ ان کی پہلے سے خبر دی گئی تھی۔یا درکھنا چاہیے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے مقصد کو پورا کر کے ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ء کو اپنے خدا کے حضور حاضر ہو گئے ان تمام پیشگوئیوں کی اس سے قبل ہی وسیع پیمانے پر اشاعت ہو چکی تھی اس لئے یہ بات یقینی ہے کہ اسلام کے عالمگیر غلبہ کے متعلق جو پیش خبریاں دی گئیں اور نبوت کی گئی ہے وہ بھی ضرور اپنے وقت پر پوری ہوں گی کیونکہ یہ پیش خبر یاں ایک ہی سلسلہ کی مختلف کڑیاں ہیں۔یہ بھی یادر ہے کہ اسلام کے غلبہ اور اسلامی صبح صادق کے طلوع کے آثار ظاہر ہورہے ہیں گو ابھی دھندلے ہیں لیکن اب بھی ان کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔اسلام کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ طلوع ہوگا اور دنیا کو منور کرے گا لیکن پہلے اس سے کہ یہ واقع ہوضروری ہے کہ دنیا ایک اور عالمگیر تباہی میں سے گذرے ایک ایسی خونی تباہی جو بنی نوع انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دے گی لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ ایک انذاری پیشگوئی ہے اور انذاری پیشگوئیاں تو بہ اور استغفار سے التواء میں ڈالی جاسکتی ہیں بلکہ ٹل بھی سکتی ہیں اگر انسان اپنے رب کی طرف رجوع کرے اور تو بہ کرے اور اپنے اطوار درست کر لے۔وہ اب بھی خدائی غضب سے بچ سکتا ہے اگر وہ دولت اور طاقت اور عظمت کے جھوٹے خداؤں کی پرستش چھوڑ دے اور اپنے رب سے حقیقی تعلق قائم کرے فسق و فجور سے باز آ جائے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے لگے اور بنی نوع انسان کی سچی خیر خواہی اختیار کر لے مگر اس کا انحصار تو ان قوموں پر ہے جو اس وقت طاقت اور دولت اور قومی عظمت کے نشہ میں مست ہیں کہ آیا وہ اس مستی کو چھوڑ کر روحانی لذت اور سرور کے خواہاں ہیں یا نہیں؟ اگر دنیا نے دنیا کی مستیاں اور خرمستیاں نہ چھوڑیں تو پھر یہ انذاری پیشگوئیاں ضرور پوری ہوں گی اور دنیا کی کوئی طاقت اور کوئی مصنوعی خدا دنیا کو موعودہ ہولناک تباہیوں سے بچا نہ سکے گا۔پس اپنے پر اور